کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 199
سے کہتے ہیں کہ نمازجنازہ سے فراغت کے بعد وہیں کھڑے کھڑے ہاتھ اٹھاکر میت کے لئے دعا کرنے کایہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قطعاًثابت نہیں ہے۔ اگرکسی کے پاس عملی ثبوت ہے تواسے پیش کریں علمی دھاندلی سے کم علم لوگوں کو مرعوب توکیاجاسکتا ہے لیکن اس سے کوئی مسئلہ ثابت نہیں کیاجاسکتا ہے۔ ٭ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حدیث شرط اورجزاپرمشتمل ہے، یعنی جب تم میت پرنمازجنازہ پڑھوتویہ شرط ہے، اوراس کے لئے خلوص نیت سے دعا کرویہ جواب شرط یاجزاہے اوران دونوں میں تغایر ہے۔ نمازجنازہ پڑھنااورخلوص نیت سے دعا کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن فاتعقیب کامعنی دیتی ہے لیکن ہرمقام پریہ معنی درست نہیں ہوتا کہ ایک کام سے فراغت کے بعد دوسرا کیا جائے ، جیسا درج ذیل حدیث میں تعقیب کامعنی نہیں پایاجاتا ہے ۔ (الف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوحکم دیا تھا ’’اِذَا اَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ وَاِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ‘‘ [ترمذی، الصلوٰۃ : ۱۹۶] ’’جب تم اذان کہوتوٹھہر ٹھہر کراوراقامت کہوتوجلدی جلدی کیاکرو‘‘اس حدیث میں فاتعقیب کے لئے نہیں ہے کہ اذان کہنے کے بعد ٹھہرناتکبیر کہنے کے بعد جلدی کرنا بلکہ معنی یہ ہے کہ اذان کہتے ہوئے اس کے کلمات ٹھہرٹھہر کراد اکئے جائیں اوراقامت کہتے وقت اس کے کلمات جلدی جلدی کہے جائیں ۔ (ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعریٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ’’اِذَا صَلَّیْتُمْ فَاَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ‘‘ [مسند امام احمد، ص:۳۹۳،ج ۴] ’’جب نمازپڑھوتواپنی صفوں کوضرورسیدھا کیا کرو۔‘‘ اس حدیث کاقطعاًیہ مفہوم نہیں ہے کہ نمازسے فراغت کے بعد اپنی صفوں کوسیدھا کیا کروبلکہ دوران نماز اپنی صفوں کوسیدھا کرنے کا حکم ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس مقام پرحرف فاتعقیب کے لئے نہیں ہے۔واضح رہے کہ حرف فاکے کئی ایک فوائد ہیں، مثلاً: بعض اوقات کلام میں خوبصورتی اورحسن پیدا کرنے کے لئے لائی جاتی ہے اس کے علاوہ اس کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا ،بعض اوقات عطف یعنی یہ بتانے کے لئے کہ اس کامابعد ماقبل کے حکم میں شامل ہے جب عطف کامعنی دے تواس کی تین اقسام ہیں: ترتیب ،تعقیب اورسببیت ،بعض اوقات حرف فا اپنے قبل اورمابعد کے درمیان رابطہ کے لئے آتا ہے اوریہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ فا کامابعد شرط بننے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو،مذکورہ بالاحدیث میں حرف فاصرف رابطہ کے لئے استعما ل ہوا ہے تعقیب وغیرہ اس میں نہیں ہے۔ [تفصیل دیکھئے: مغنی اللبیب ،ص:۱۶۱،ج ۱] بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ بدعت اس وقت جگہ پکڑتی ہے جہاں سنت کاقرارہوتا ہے۔ دیکھئے سنت یہ ہے کہ نمازجنازہ میں میت کے لئے دعائیں کی جائیں، لیکن وہاں توہم جھٹکاکرتے ہیں لیکن جس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرنا ثابت نہیں ہے و ہاں دعا کرنے کے لئے ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پرچلنے کی توفیق دے۔ آمین سوال: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کے متعلق روایات بیان کی جاتی ہیں۔ اس کے متعلق وضاحت فرمائیں کہ جنازہ دیکھ کرکھڑا ہونا چاہیے یانہیں؟ جواب: جنازے کے لئے قیام کی دواقسام ہیں: 1۔ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا ۔