کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 195
جواب: میت کوغسل دینے کاشرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے استنجا کرایا جائے، یعنی اس کی شرم گاہ کو دھویا جائے۔ دھونے سے پہلے مٹی کے ڈھیلے صفائی کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں، پھراسے غسل دیاجائے۔ اعضائے وضوسے شروع کرے اور اسے وضو کرائے ،لیکن میت کے منہ اورناک میں پانی داخل نہ کیا جائے بلکہ غسل دینے والے کو چاہیے کہ کپڑے کے ایک ٹکڑے کوگیلا کرکے اس کے ساتھ میت کے منہ اورناک کوصاف کرے پھراس کے باقی جسم کوغسل دے۔ بہتر ہے کچھ پانی میں بیری کے پتے کوٹ کر ڈال دئیے جائیں یا انہیں پانی میں جوش دیا جائے۔ اس پانی سے اس کے سراورداڑھی کودھویا جائے۔ بیری کے پتوں کافائدہ یہ ہے کہ اس سے جسم بہت زیادہ صاف ہوجاتا ہے۔ بیری کے پتے استعمال کرنامسنون عمل ہے۔ ان کی جگہ صابن استعمال کرنا بھی جائز ہے۔ آخری غسل میں ’’کافور‘‘ بھی استعمال کیا جائے۔ اس کافائدہ یہ ہے کہ جسم کوسخت کردیتا ہے اورکیڑوں مکوڑوں کو بھگا دیتا ہے۔ اگرمیت کوزیادہ میل کچیل لگی ہے تواسے زیادہ باربھی غسل دیاجاسکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر حضرت زینب رضی اللہ عنہا کوغسل دینے والی خواتین سے فرمایا تھا: ’’اسے تین یاپانچ بار غسل دو،اگر ضرورت محسوس کروتواس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو۔‘‘ [صحیح بخاری ،الجنائز:۱۲۵۳] میت کوغسل دینے والا اگرمحسوس کرے کہ میت کے جسم سے آلائش وغیرہ نکل کراسے لگی ہے تو اسے چاہیے کہ میت کوغسل سے فراغت کے بعد خود بھی غسل کرے،اگراسے یقین ہے کہ میت سے کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی توغسل دینے والے کونہانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میت کوغسل دینے کے بعد اسے صاف ستھراکفن پہنادیاجائے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: قرآن وحدیث کی روشنی میں تعزیت کاطریقہ کیا ہے، میت کے لواحقین کے پاس جاکر میت کے لئے ہاتھ اٹھاکردعا کرنا اور رواداری کے طور پر قل خوانی میں شرکت کرلینا ،لیکن کھانے پینے سے اجتناب کرنا،اسی طرح محض علاقے داری کی وجہ سے جنازہ پڑھنا جبکہ جنازہ سنت کے مطابق نہ پڑھایاجارہاہو،ان تمام مسائل کی شرعی حیثیت واضح کریں؟ جواب: اہل میت کوتسلی دینا اورانہیں صبر کی تلقین کرناتعزیت کہلاتا ہے، نیز میت کے لئے دعا کرنابھی تعزیت میں شامل ہے لیکن دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا محض ایک رسم ہے۔ احادیث میں تعزیت کی فضیلت بایں الفاظ وارد ہے کہ ’’جواپنے کسی مسلمان بھائی کی کسی مصیبت میں تعزیت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے سبز رنگ کاحلہ پہنائیں گے جس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن لوگوں کے لئے باعث رشک ہوگا۔‘‘ [مصنف ابن ابی شیبہ، ص:۱۶۴،ج ۴] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طورپران الفاظ سے تعزیت کیا کرتے تھے کہ ’’اللہ تعالیٰ ہی کاتھا جواس نے لے لیا اورجواس نے دیاوہ بھی اسی کاہے۔ اللہ کے ہاں ہرچیز کاایک وقت مقرر ہے۔ ہمیں ثواب لینے کی نیت سے صبرکرنا چاہیے ۔‘‘ [مسندامام احمد، ص:۲۰۴،ج ۵] حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تعزیت کے لئے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور انہیں تسلی دی، نیز میت کے گناہوں اور اس کے لئے رفع درجات کی دعا کی۔ [مسند امام احمد،ص:۲۹۷،ج۲] تعزیت کے لئے تین دنوں کی تحدید بھی درست نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کے تین دن بعد ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی تھی۔ [مستدرک حاکم، ص:۲۹۸،ج ۲]