کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 191
ہماری اولاد کوتباہی کے گڑھے کی طرف دھکیل رہاہے اگرآپ اس پرکنٹرول کرنے کی پوزیشن میں ہیں توکرلیں بصورت دیگر اگرپانی سر سے گزر گیا توکچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا ۔آپ اس اختصار شدہ پیغام میں بھی بیٹی کی پراگندہ خیالی اورانتشار فکری ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ اس نے ایک لڑکے کی بظاہر دینداری سے متاثر ہو کر ازخود اس سے رابطہ کیا نامعلوم ’’سلام وپیغام ‘‘کایہ منحوس سلسلہ کتنی دیر تک چلتا رہا۔پھرمعاشرتی طورپر مایوس ہوکر والدین کی رضامندی کالبادہ اوڑھ کراﷲ سے مانگنے کی فکر دامنگیر ہوئی لیکن پھر اس پر بھی ضمیر مطمئن نہ ہوا کہ جسے اﷲ سے مانگا جارہاہے وہ ہمارے لئے کہیں ’’شر ‘‘ہی نہ بن جائے آیت کاحوالہ دے کر ہماری طرف رجوع کیا گیا ہے کہ ایسے حالات میں ’’شرع وشریعت‘‘ کیا فتویٰ صادر کرتی ہے ہمارے نزدیک اس کاحل حسب ذیل ہے : 1۔ سب سے پہلے خالی ذہن ہوکراﷲ سے طلب خیر کیا جائے، یعنی استخارہ کرناچاہیے، اﷲ تعالیٰ سے بایں طور پر سوال کیاجائے کہ اگر دینی اوردنیاوی اعتبار سے میری مطلوبہ چیز تیرے ہاں بہتر اوراچھی ہے تواسے حاصل کرنامیرے لئے آسان کردے اوراسے میرے مقدر میں کردے اوراگر دینی اوردنیاوی لحاظ سے یہ چیز میرے لئے شر کاپہلورکھتی ہے تواس سے میرادل اچاٹ کردے اوراسے مجھ سے دور کر دے، پھرمیرے لئے جوبہتر ہے اس کے حصول کے لئے راستہ ہموار کردے ،اﷲ کے حضور نہایت عاجزی وانکساری سے دعا کی جائے کہ مطلوبہ شخص اگرمیرے لئے ہرلحاظ سے بہتر ہے تواس کے وسائل پیدا ہوجائیں ۔ 2۔ ہماری مشرقی روایت کے مطابق بیٹے اوربیٹیاں ازخود رشتہ طے کرنے کی بجائے ان کے والدین یہ فریضہ ادا کرتے ہیں، اس لئے تمام معا ملات والدین کے ذریعے طے کئے جائیں ۔’’پریشان بیٹی ‘‘ کوچاہیے کہ وہ اپنے والدین کواعتماد میں لے اس کے بعد بات چیت کوآگے بڑھایا جائے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ’’تم گھروں میں ان کے دروازوں سے ہی آیا کرو۔‘‘ [۲/البقرہ :۱۸۹] دیواروں کوپھلانگ کرگھر میں داخل ہونا عقل مندی نہیں ہے ۔ 3۔ اس امر پرغورکر لینا مناسب ہے اگر مطلوبہ متدین شخص شادی شدہ ہے تواسے ایسی حالت میں قبول کرناہوگا کہ پہلی بیوی کو طلاق دلواکر خودوہاں آباد ہونے کی خواہش غیراسلامی اورناجائزہے حدیث میں اس کی ممانعت ہے۔ [صحیح بخاری ،النکاح :۵۱۵۲]