کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 189
جواب: شریعت میں تین ،سات ،دس،، پچیس ،تینتیس اورسوتک کوئی بھی وظیفہ پڑھنا مطلوب ہے۔ اس کے بعد پانچ صد ، ہزار یاپانچ ہزار تک، اورادو وظائف پڑھنا ایجاد بندہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شرعی حدتک وظائف کے لئے اپنی انگلیوں کو استعمال کرتے تھے ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہاتھوں کے پوروں سے تسبیحات پڑھتے دیکھا۔ [ترمذی :۳۶۵۱] بعض روایات میں دائیں ہاتھ کی وضاحت ہے ۔ [ابوداؤد :۱۵۰۲] پھرآپ نے خواتین اسلام کوحکم دیا ہے کہ وہ اپنی انگلیوں کے پوروں سے تسبیحات کریں کیونکہ قیامت کے د ن یہ پورے بول کرگواہی دیں گے۔ [ترمذی :۳۸۳۵] تاہم بعض متقدمین سے تسبیح کے استعمال کا جواز منقول ہے بشرطیکہ اس سے نمائش مقصود نہ ہو۔ [فتاویٰ ابن تیمیہ، ص:۵۰۶،ج ۲۲] واضح رہے کہ وظائف کے لئے کاونٹر کااستعما ل جس سے ٹک ٹک کی آواز پیدا ہو ،نمائش اور ریاکاری ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا چاہیے یانہیں ؟ راہنمائی فرمائیں۔ جواب: دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنے کے متعلق متعدد احادیث مروی ہیں۔جنہیں امام ابوداؤد ،امام ترمذی اورامام حاکم رحمہم اللہ نے بیان کیا ہے لیکن ان کی اسناد انتہائی کمزور ہیں ۔البتہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اورزبیر رضی اللہ عنہ سے دعا کے بعد چہرے پرہاتھ پھیرنا صحیح سند سے ثابت ہے، اس سلسلہ میں امام بیہقی رحمہ اللہ کافیصلہ یہ ہے کہ دوران نماز اگر ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے توچہرے پر ہاتھ نہ پھیرے جائیں، کیونکہ نماز میں کسی ایسے کام کی اجازت نہیں جس کاثبوت صحیح احادیث سے نہ ملتا ہو،البتہ خارج نماز دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرے جاسکتے ہیں ۔ [سنن الکبریٰ ،ص:۲۱۲،ج ۲] سوال: گیارھویں کے علاوہ کسی دوسرے دن قرآن پڑھ کرختم دیناجائز ہے یا نہیں؟ جواب: قرآن مجید پڑھ کرختم دینا ایک مخصوص اصطلاح ہے جس کاثبوت صالحین سے نہیں ملتا ،پیٹ کادھند ہ چلانے کے لئے اس قسم کی باتوں کوایجاد کیاگیا ہے ،گیارہویں کاکوئی ثبوت نہیں ہے۔ اسی طرح دوسرے ایام بھی ختم دینے کاکوئی جواز نہیں ،قرآن پاک پڑھناحرام نہیں، بلکہ اسے خلاف سنت استعمال کرناحرام ہے، لہٰذااس قسم کی محفل میں شریک ہونایا کھانا استعمال کرنا شرعاً درست نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم ] سوال: کیا امام دعاکرتے وقت آیت کریمہ میں ’’انی کنت‘‘ کے بجائے ’’اناکنا‘‘ پڑھ سکتا ہے ؟ جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے کہ ’’عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جوپانی کے استعمال اوردعا کرنے میں حداعتدال سے تجاوزکریں گے۔‘‘ [ابوداؤد، الوتر :۱۴۸۰] قرآن وحدیث میں وارد ادعیہ ماثور ہ میں تبدیلی بھی حداعتدال سے تجاوز ہے۔ اس سے اجتناب کرناچاہیے ۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا سکھائی جس میں یہ الفاظ تھے ’’وَنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ‘‘ انہوں نے جب اسے دھر ایا تو ’’وَرَسُوْلِکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ‘‘ پڑھ دیا، یعنی نبیک کے بجائے رسولک پڑھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’نبیک