کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 187
کیاگیا ہے۔ جیسا کہ اگر کسی بیج کے متعلق یہ مقدر ہے کہ اس نے اگنا ہے اورپھلنا پھولنا ہے تواس کی یہ تقدیر اسباب وذرائع کے بجالانے سے معلق ہوگی۔ اسے زمین میں کاشت کیاجائے گا ۔پھراسے پانی بھی دیا جائے، زمینی آفات سے اس کی نگرانی بھی کی جائے گی۔ اس کے بعد یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ یہ بیج اُگے گا اورپھلے پھولے گا۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اس سوال کاجواب اپنے مخصوص انداز میں دیا ہے کہ سوال میں بیان کردہ صورت حال کاتقاضا ہے کہ ہم ہرقسم کے اسباب وذرائع کومعطل کردیں اورانہیں بالکل عمل میں نہ لائیں کیونکہ اگرہمارے مقدر میں سیرہونالکھا ہے توہوکر رہے گا ،خواہ ہم کھانا کھائیں یانہ کھائیں، اسی طرح اگرہمارے مقدر میں اولاد ہے تووہ ہوکررہے گی، خواہ ہم شادی کریں نہ کریں اورشادی کرنے کے بعد بیوی کے پاس جائیں یانہ جائیں،کیاکوئی عقل مند آدمی اس بات کااقرار کرتا ہے؟ بلکہ دنیا میں اسے احمق کہاجائے گا ،کیونکہ کسی چیز کاوقوع پذیر ہونا اسباب سے معلق ہے، وہ اسباب بھی تقدیر کاحصہ ہیں، ان کی بجا آوری ضروری ہے، ہمارا رزق طے شدہ ہے لیکن اس کے لئے بھاگ دوڑ، محنت مشقت اورذرائع واسباب کااستعمال کرناضروری ہے۔ گھر بیٹھ رہنے سے وہ مقدر حاصل نہیں ہوگا، چنانچہ اس بات کی وضاحت ایک حدیث میں بایں الفاظ ہے۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ عمر میں کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اضافہ ہوتا ہے، برُی تقدیر کودعا ٹال دیتی ہے اورآدمی بعض اوقات اپنے برے کردار کی وجہ سے رز ق سے محروم کردیا جاتا ہے۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۲۷۷،ج ۵] اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ نیکی اور حسن سلوک انسان کی عمر میں اضافہ کاسبب ہے ۔جب اسے عمل میں لایا جائے گا تو سبب، یعنی عمر میں اضافہ ہوگا اوریہ دونوں باتیں، یعنی نیک عمل کرنااور عمر میں اضافہ ہوناتقدیر کاحصہ ہیں۔ اسی طرح پریشانی یابیماری میں مبتلا ہوناتقدیر کاحصہ ہے اوردعا یادواسے اس کا دور ہونا بھی اللہ کے ہاں لکھا ہوا ہے چونکہ ہم اسباب وذرائع کواستعمال کرنے کے پابند ہیں۔ اس لئے ان کی بجاآوری بھی ضروری ہے، چنانچہ یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ فلاں آدمی فلاں گناہ کے ارتکاب سے رزق سے محروم ہوگا ،جب وہ گناہ کرے گا توضرور اس رزق سے محروم ہوگا اگرچہ احتیاطی تدابیر بعض اوقات کارگرثابت نہیں ہوتیں ۔تاہم دعا ایک ایسی احتیاطی تدبیر ہے کہ یہ کسی صورت میں ضائع نہیں ہوتی، جیسا کہ ایک حدیث میں واضح اشارہ ملتا ہے۔ [مسندامام احمد، ص:۲۳۴،ج ۵] سوال: کیانوافل میں قرآن مجید سے دیکھ کر قراء ت کی جاسکتی ہے یا نہیں، نیز سونے سے پہلے سورۂ ملک اورسورۂ سجدہ پڑھنے کے متعلق حدیث میں آیا ہے، اگران دونوں سورتوں کونوافل میں پڑھ کرسوجائے توکیا ایسا کرنادرست ہے؟ جواب: نماز میں قرآن پاک سے دیکھ کر قراء ت کی جاسکتی ہے لیکن اس پردوام درست نہیں ہے، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک ذکوان نامی غلام جماعت کراتے ہوئے قرآن سے دیکھ کرقراء ت کرتا تھا۔ [صحیح بخاری تعلیقاً، باب امامۃ العبد ] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنی تالیف ’’المصاحب‘‘ اور ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی مصنف میں اسے موصولاً بیان کیا ہے اوررمضان المبارک میں تراویح پڑھاتے ہوئے وہ ایسا کرتے تھے، بعض حضرات نے عمل کثیرکی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ عمل سرانجام پاتا تھا اگرناپسند ہوتا توآپ