کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 183
مجہول ہے، اس کے متعلق کتب رجال میں کسی قسم کی توثیق بیان نہیں ہوئی اوراس سے بیان کرنے والا صرف ایک شخص مبشر بن اسماعیل الحلبی ہے اس کے علاوہ کوئی دوسراشخص اس سے روایت بیان نہیں کرتا، چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس عبدالرحمن بن علاَّء سے ایک روایت بیان کی ہے۔ [کتاب الجنائز :۹۷۹] اس روایت کوبیان کرنے والاصرف ایک شاگرد مبشر بن اسماعیل الحلبی ہے امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ رحمہ اللہ سے عبدالرحمن بن علاَّء کے متعلق دریافت کیاتوآپ نے فرمایا کہ یہ عبدالرحمن بن علاَّء بن اللجلاج ہے۔ انہوں نے صرف اسی طریق سے اس کی پہچان کرائی،علامہ ذہبی رحمہ اللہ اس کے متعلق کسی قسم کی جرح وتعدیل کاذکر کئے بغیر کہتے ہیں کہ اس سے صرف مبشر بن اسماعیل الحلبی بیان کرتا ہے۔ [میزان الاعتدال، ص:۵۷۹،ج ۲] علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے اس حدیث کوایک اورسند سے بیان کرتے ہوئے لکھاہے کہ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں بیان کیا اوراس کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ [مجمع الزوائد، ص:۴۴،ج ۳] جب امام طبرانی کی المعجم الکبیر کودیکھا گیا تواس میں بھی عبدالرحمن بن علاَّء بن اللجلاج ہے۔ [ص:۴۴۴ج، ۱۲ رقم: ۱۳۶۱۳] جس کے متعلق ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ وہ مجہول ہے، مزید برآں اس عمل کے متعلق اس کاباپ علاء بن اللجلاج کہتا ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے وہ اس عمل کوبیان کرتے تھے۔ [مجمع الزوائد ،ص:۴۴،ج ۳] علامہ ہیثمی رحمہ اللہ کی شہادت کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اگر اس مفروضہ کوتسلیم بھی کر لیاجائے توراویوں کی ثقاہت اوربات ہے لیکن صحت حدیث کے لئے سند کامتصل ہوناضروری ہے جواس روایت میں مفقودہے کیونکہ علاء بن اللجلاج ایک تابعی ہے اوروہ بغیر واسطہ کے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمل کیونکر بیان کرسکتے ہیں یقینادرمیان میں کوئی راوی محذوف ہے جس کے متعلق ہمیں علم نہیں کہ وہ کس حیثیت کا حامل ہے، محدثین کرام کی اصطلاح میں اس قسم کی روایت مرسل کہلاتی ہے اوراس کے متعلق جمہورمحدثین اوراکثر اصولیین کافیصلہ ہے کہ ناقابل قبول اورمردودہوتی ہے، اس لحاظ سے بھی یہ عمل محل نظر ہے ۔ [واﷲاعلم] سوال: ہم نے جریدہ ’’اہلحدیث ‘‘مجریہ ،۲۹اکتوبر ۲۰۰۴شمارہ نمبر ۳۹میں ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جوحضرات نماز سے فراغت کے بعد اپنے سر پرہاتھ رکھ کر ایک مخصوص دعا پڑھتے ہیں ،اس کاثبوت کتاب وسنت سے نہیں ملتا۔ اس کے متعلق ہمارے ایک دیرینہ عزیز لکھتے ہیں: ’’آپ نے فرض نمازوں کے بعد سر پرہاتھ رکھ کرپڑھی جانے والی دعا کے متعلق بحث فرمائی، ہمارے ہاں عام طورپریہ عمل نہیں کیاجاتا لیکن یکم ستمبر ۲۰۰۳ء کے صحیفۂ اہلحدیث میں اس کو قابل عمل اوراس سے متعلقہ حدیث کو حسن لکھا گیا ہے، مفتی صاحب نے روایت میں مذکورہ عثمان الشمام راوی کے ضعف کومعمولی خیال کرتے ہوئے اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے۔ جب میں نے اصل کتاب میں مراجعت کی تو اس سند میں عثمان الشمام نامی راوی سرے سے موجود ہی نہیں بلکہ وہ اس سے پہلی حدیث کی سند میں ہے۔ مذکورہ فتویٰ میں سنن نسائی کاحوالہ بھی دیا گیا، مجھے نسائی میں بھی یہ حدیث نہیں مل سکی، اس کے متعلق آپ کسی موقعہ پر وضاحت فرما دیں ؟ جواب: مذکورہ عمل اور اس سے متعلقہ روایت کی مزید وضاحت کرنے سے پہلے ہم صحیفہ اہلحدیث کے متعلق گزارش کرناچاہتے