کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 178
ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اٹھاتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، میں تو اٹھاتا ہوں۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے اس کی دلیل پوچھی توآپ نے فرمایا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں ہے کہ وہ یعنی حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ اس پرامام ابوحاتم نے کہا اس روایت کونقل کرنے والے لیث بن ابی سلیم ہیں۔ (جومحدثین کے ہاں ثقہ نہیں ہیں )امام ابوزرعہ رحمہ اللہ کہنے لگے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کاعمل بھی قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کاہے امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے اس کاجواب دیا کہ اس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جوقابل اعتبار نہیں۔ امام ابوزرعہ رحمہ اللہ کہنے لگے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کاعمل ہمارے لئے حجت ہے امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرمانے لگے: اسے توعوف بن ابی جمیلہ نے بیا ن کیا ہے۔ جو محدثین کے ہاں ناقابل اعتبار ہے امام ابوزرعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: تمہارے پاس ہاتھ نہ اٹھانے کی کیا دلیل ہے۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے فرمایاحضرت انس رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے علاوہ دیگر کسی مقام پرہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ یہ جواب سن کرامام ابوزرعہ رحمہ اللہ خاموش ہوگئے ۔ [تاریخ بغداد، ص:۷۶،ج ۲] ہمارے نزدیک اس مسئلہ میں توسیع ہے ہاتھ اٹھاکر یا ہاتھ اٹھائے بغیر دونوں طرح سے دعا مانگی جاسکتی ہے، البتہ تکبیر تحریمہ کی طرح ہاتھ اٹھانا، پھرباندھ لینا محل نظر ہے۔ [واﷲاعلم بالصواب] سوال: قنوت کے متعلق وضاحت کریں کہ رکوع سے پہلے ہے یابعد میں، نیز ا س میں ہاتھ اٹھائے جائیں یااٹھائے بغیر بھی قنوت پڑھی جاسکتی ہے جبکہ بخاری شریف میں ہے کہ قنوت رکوع سے پہلے بھی ہے اوربعد میں بھی کی جاسکتی ہے؟ جواب: عبادات میں قنوت کی دواقسام ہیں: 1۔ قنوت نازلہ۔ 2۔ قنوت وتر۔ ان دونوں کے لوازمات اورخصوصیات کی تفصیل بیان کی جاتی ہے ۔ 1۔ قنوت نازلہ سے مرادجوجنگ ،مصیبت ،وبائی امراض اورغلبہ دشمن کے وقت دوران نماز پڑھی جاتی ہے، ان ہنگامی حالات کے پیش نظر قنوت نازلہ کے مندرجہ ذیل لوازمات ہیں: ٭ اسے رکوع کے بعد پڑھا جاتا ہے، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں رکوع کے بعد کفار پرلعنت کرتے تھے یہ سلسلہ کافی عرصہ تک جاری رہا۔ [صحیح بخاری، التفسیر: ۴۵۵۹] ٭ دوران جماعت امام اسے بآواز بلند پڑھتا ہے، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ آپ قنوت نازلہ بآواز بلند پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری ،التفسیر :۴۵۶۰] ٭ قنوت نازلہ ہاتھ اٹھاکر پڑھی جاتی ہے، جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اٹھاکر قنوت نازلہ کیا کرتے تھے۔[مسند امام احمد، ص: ۱۳۷، ج ۳] ٭ مقتدی حضرات قنوت نازلہ کے لئے آمین کہیں۔ [ابوداؤد، الوتر: ۱۴۴۳] ٭ قنوت نازلہ تمام نمازوں میں کی جاسکتی ہے ۔ [مسند امام احمد، ص: ۳۰۱ج ۱] ٭ ہنگامی حالات ختم ہونے پر موقوف کردیا جائے۔ [صحیح مسلم ،المساجد :۱۵۴۲] 2۔ قنوت وتر سے مراد وہ دعا ہے جووتروں کی آخری رکعت میں پڑھی جاتی ہے، اس کی خصوصیات حسب ذیل ہیں :