کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 175
وتر وتہجد سوال: ایک آدمی نے نماز عشاء کے بعدوتر ادا نہیں کئے، اس لئے کہ وہ نیند سے بیدار ہوکرپڑھناچاہتا تھا۔ جب پچھلی رات بیدار ہواتو فجر کی اذان ہوچکی تھی یاجب نفل پڑھنا شروع کئے تو فجر کی اذان ہونے لگی ،اب کیانفل پڑھ کروتر پڑھنے چاہییں یا صرف نفل پڑھنے پراکتفا کیاجائے، نیز وتر وں میں اگر دعا نہ پڑھی جائے توکیا وتر ہوجائیں گے۔ ہمارے ہاں وتر پڑھنے کے بعد بیٹھ کردونفل پڑھے جاتے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیاہے، جبکہ وتررات کی آخری نماز ہے؟ جواب: اس ایک سوال میں کئی سوالات ہیں،ان کے جوابات سے پہلے اس بات کی وضاحت کرناضروری ہے۔ کہ نماز وترتہجد کاحصہ ہے نماز عشاء کاجز نہیں کہ اس کے ساتھ ہی پڑھناضروری ہو،نماز وتر کاوقت نماز عشاء کے بعد سے طلوع فجر تک ہے، جیسا کہ حدیث میں اس کے وقت کی تعیین کی گئی ہے۔ [ابوداؤد، الصلوٰۃ: ۱۴۱۸] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے کہ’’ نماز وتر صبح سے پہلے پڑھو ۔‘‘ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین :۷۵۴] جس انسان کویہ اندیشہ ہوکہ وہ رات کے آخری اوقات میں بیدار نہیں ہوسکے گا، اسے چاہیے کہ وہ وترپڑھ کر سوئے ،اگر یہ اندیشہ نہ ہوتورات کے آخری حصہ میں وتر پڑھنا افضل ہیں ۔چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :’’تم میں سے جسے یہ خدشہ ہوکہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تووہ وتر پڑھ لے، پھر سوجائے۔‘‘ [مسند امام احمد، ص: ۳۱۵،ج ۲] حضرت ابوہریرہ، حضرت سلمان اورحضرت ابودرداء رضی اللہ عنہم کو آپ نے وصیت کی تھی کہ عشاء کے بعد سونے سے پہلے وتر پڑھ لیاکریں ،اب ترتیب وارجوابات ملاخطہ فرمائیں ۔ ٭ جو شخص نمازِفجر سے اٹھا اوراس نے نفل شروع کردیے اوراس دوران اذان ہوگئی توان نوافل کووتر بنالے اورانہیں مکمل کرلے اوراگرصبح کی اذان کے بعد بیدارہوتووتر اداکرنے کی دوصورتیں ہیں: 1۔ وہ جب بھی بیدار ہو، اسی وقت وتر ادا کرے، خواہ وہ اذان کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو شخص وتر کے وقت سویا رہے یا اسے وتر پڑھنابھول جائیں توجب اسے یاد آئے یاجب وہ بیدار ہوتواسی وقت پڑھ لے۔‘‘ [جامع ترمذی ،الصلوٰۃ : ۴۶۵] ترمذی کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ’’جب کوئی نماز وترسے سورہے ،جب صبح کرے تو پڑھ لے ۔‘‘ [حدیث نمبر۴۶۹] 2۔ فوت شدہ وتروں کواد اکرنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ دن چڑھے بارہ رکعت پڑھ لے ،اس سے وتروں کی تلافی ہوجائے گی کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب نیند یاکوئی تکلیف قیام اللیل سے رکاوٹ بن جاتی تو آپ دن میں بارہ رکعت ادا فرما لیتے۔ [سنن دارمی، الصلوٰۃ: ۴۳۹] ٭ وترمیں دعائے قنوت کے محل کے تعیّن میں اختلاف ہے احناف رکوع سے پہلے دعاکرنے کے قائل ہیں، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اورامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے رکوع کے بعددعا کرنے کاموقف اختیار کیا ہے۔ ہمارارجحان یہ ہے کہ اگرقنوت وتر کوقنوت نازلہ کی شکل نہیں دی گئی، یعنی اس میں دیگر ہنگامی ادعیہ شامل نہیں کی گئی ہیں۔ توقنوت رکوع سے پہلے کرناچاہیے، جیسا کہ حضرت ابی بن