کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 169
اوروہ بقیع کے پاس تھی ۔ [صحیح بخاری، العیدین :۹۷۶] حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اورعیدالاضحیٰ کے دن عید گاہ کی طرف باہرنکلتے تھے۔ [صحیح بخاری ،الجمعہ :۹۵۶] لیکن اگرکوئی عذر ہوتو باہر کھلے میدان کے بجائے مسجد میں نماز عید اد اکی جاسکتی ہے۔ اصول فقہ کا ایک قاعدہ ہے کہ ضروریات، ممنوع کاموں کو مباح بنادیتی ہیں، اس لئے کسی معقول عذر کی بنا پر مسجد میں نماز عید ادا کی جاسکتی ہیں، اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ عید کے موقع پر لوگوں کوبارش نے آلیا تورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز عید مسجد میں پڑھادی۔ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۱۱۶۰] یہ روایت ضعیف ہے، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً ایک روایت ہے کہ بارش ہوجائے تومسجد میں نماز عید پڑھی جاسکتی ہے۔ [بیہقی، ص:۳۱۰، ج ۳] دیہاتوں میں توایسا ممکن ہے کہ باہر کھلے میدان میں نماز عید پڑھ لی جائے لیکن شہری آبادی میں پارک وغیرہ اتنی تعداد میں دستیاب نہیں ہوسکتے کہ نماز عیدوہاں ادا کی جاسکے، اس لئے عدم دستیابی کی صورت میں مسجد میں نماز پڑھ لینے کاجواز ہے، اگرچہ افضل یہ ہے کسی گراؤنڈیاپارک میں نماز عید گاہ کااہتما م کیا جائے، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اگر کھلے میدان میں پڑھنے کاعمل سنت نہ ہوتا تومیں مسجد میں نماز عید پڑھ لیتا۔‘‘ [مصنف ابن ابی شیبہ، ص:۱۸۵،ج ۲] اس کے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ کاموقف یہ ہے کہ اگر علاقہ کی مسجد ہی وسیع اورکشادہ ہوتومسجد میں پڑھنا افضل ہے کیونکہ اصل مقصود خواتین و حضرات کااجتماع ہے اگر وہ مسجد میں ہوسکتا ہے توباہر نکلنے کی ضرورت نہیں لیکن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل پر مداومت فرمائی ہے، اس لئے باہر کھلے میدان میں نکلنا ہی افضل ہے۔ [واﷲ اعلم ] سوال: نماز عید کے لئے جاتے اورواپس آتے وقت راستہ بدلنا چاہیے، نیز اس میں کیاحکمت ہے؟ جواب: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاعمل یہی ہے کہ جب عیدکادن ہوتا توعید گاہ جانے اورواپس آنے کے لئے راستہ تبدیل کرلیتے تھے۔ [صحیح بخاری ،العیدین :۹۸۶] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے لئے کسی راستہ سے نکلتے توواپسی پرکسی دوسرے راستہ سے لوٹتے تھے۔ [مسندامام احمد، ص:۳۳۸ج ۲] اس لئے راستہ تبدیل کرنا مسنون عمل ہے۔ راستہ تبدیل کرنے کی حکمت کے متعلق علما نے لکھا ہے تاکہ قیامت کے دن زیادہ چیزیں اس کارخیر کے لئے گواہی دیں، نیز فقرا و مساکین کی خبرگیری کرنے کے لئے ایسا عمل کیاجاتا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی احوال پرسی ہوسکے ۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔ [مغنی ابن قدامہ، ص: ۲۸۳، ج ۳] بہرحال اس عمل کوسنت سمجھ کر بجالانا چاہیے اگرچہ اس کی حکمت کے متعلق ہم کچھ بھی نہ جان سکیں، اس سنت پرعمل کرنے سے ہمیں اﷲ تعالیٰ کے ہاں اجروثواب ضرور ملے گا ۔ [واﷲ اعلم ]