کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 168
نے بڑے جامع الفاظ میں جواب دیا فرماتے ہیں: ’’مصافحہ بعد سلام آیا ہے،عید کے روز بھی بنیت تکمیل سلام مصافحہ تو جائز ہے، بنیت خصوص عید، بدعت ہے کیونکہ زمانۂ رسالت وخلافت میں مروج نہ تھا ۔‘‘ [فتاویٰ ثنائیہ ،ص:۴۵۰،ج ۱] امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ لوگ عیدین کے موقع پر’’تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ‘ ‘سے ایک دوسرے کومبارک باد دیتے ہیں اس کی کیا حیثیت ہے؟ توآپ نے فرمایا: ’’ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اہل شام حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کرتے ہیں اس کی سند جید ہے۔‘‘ امام احمد رحمہ اللہ سے یہ بھی روایت ہے کہ میں ابتدا میں کسی کوان الفاظ سے مبارک باد نہیں دیتا، البتہ اگرمجھے کوئی کہتا ہے تو اس کاجواب دے دیتاہوں علی بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے آج سے پینتیس سال قبل اس مبارک باد کے متعلق سوال کیا تھا توآپ نے فرمایا کہ ہمارے ہاں مدینہ میں عرصہ دراز سے یہ بات معروف ہے ۔ [مغنی ابن قدامہ، ص:۲۹۵،ج ۳] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ لوگ عید کے موقع پر ایک دوسرے کو ’’عید مبارک ‘‘کہتے ہیں کیاشرعی طورپر اس کی کوئی بنیاد ہے اگرہے تو اس کی وضاحت فرمائیں ۔امام صاحب نے بایں الفاظ جواب دیا: ’’عید کے دن نماز کے بعد ’’تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ‘‘ سے ایک دوسرے کومبارک باددی جاسکتی ہے کیونکہ چند ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ عمل مروی ہے اورامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے ائمۂ کرام نے بھی اس کی رخصت دی ہے اس کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حکم یانہی مروی نہیں ہے،اس لئے اس کے کرنے یانہ کرنے میں چنداں مضائقہ نہیں ہے۔ [فتاویٰ ابن تیمیہ ،ص:۲۵۳،ج۲۴ ] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کی طرف اشارہ کیاہے اس کی تفصیل ہم پہلے فتویٰ میں بیان کر آئے ہیں، اسے دوبارہ ذکر کیاجاتا ہے : ٭ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب عید کے دن ملتے تو مذکورہ الفاظ سے ایک دوسرے کومبارک باد دیتے تھے۔ [فتح الباری، ص:۴۴۶،ج ۳] ٭ محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ اوردیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ تھا جب وہ عید پڑھ کرواپس ہوئے توانہوں نے انہی الفاظ کے ساتھ ایک دوسرے کومبارک باددی۔ [الجوہر النقی، ص: ۳۲۰، ج ۳] کتب حدیث میں بعض ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے اس کی کراہت معلوم ہوتی ہے اوراسے اہل کتاب کاطریقہ بتایا گیا ہے لیکن وہ روایات محدثین کے قائم کردہ معیارصحت پرپورا نہیں اترتیں ۔ [بیہقی، ص: ۳۲۰،ج ۳] ان حقائق کے پیش نظر ’’تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ‘‘ کے الفاظ سے عید کے موقع پر مبارک باد تودی جاسکتی ہے لیکن مصافحہ کرنااورگلے ملنا ایک رواج ہے جس کاثبوت محل نظر ہے۔ [واﷲاعلم] سوال: ہمارے ہاں عام طورپرآج مساجد میں ہی عید پڑھنے کارواج چل نکلا ہے ،جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کھلے میدان میں عید پڑھاتے تھے کیامسجد میں عید پڑھنے کی گنجائش ہے؟ جواب: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کادائمی معمول یہی تھا کہ آپ عیدین کی نماز عیدگاہ میں پڑھاتے تھے جومسجد نبوی سے ہزار فٹ دور کھلے میدان میں واقع تھی۔ [فتح الباری ،ص:۵۷۹ج ۲]