کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 167
جائز ہے ایسی صورت میں دونوں خطبوں کے درمیان فصل کی کیا شکل ہوگی؟ ٭ خطبہ جمعہ کاسماع ضروری ہے جبکہ عیدین کا خطبہ سننا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے ۔ آخری گزارش : عیدین کے دونوں خطبوں کے متعلق جونقلی اور عقلی دلائل کتب حدیث سے دستیاب ہوئے ہیں ہم نے دیانت داری کے ساتھ انہیں پیش کردیا ہے اوران پر انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنی گزارشات بھی رقم کی ہیں مذکورہ دلائل اور گزارشات کے پیش نظر ہم اس نتیجہ پرپہنچے ہیں کہ عیدین کے لئے دوخطبے دینا ایک شرعی حکم ہے جس کے ثبوت کے لئے صاف واضح اورصحیح دلائل کی ضرورت ہے جوہمیں نہیں مل سکے ۔اس کے متعلق صرف لفظ ’’خطب‘‘ استعمال ہوا ہے جوفرد مطلق پردلالت کرتا ہے اور اس سے مراد صرف ایک خطبہ ہے جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پروعظ وارشاد فرماتے ہوئے دیا کرتے تھے ،دوخطبے صراحت کے ساتھ صرف جمعہ کے لئے ہیں اس کے علاوہ کسی دوسرے مقام پردو خطبے دینا ہمارے نزدیک پایۂ ثبوت کونہیں پہنچتے ،اس لئے ہماراموقف یہی ہے کہ عیدین کے لئے صرف ایک ہی خطبہ پراکتفا کیاجائے ۔چنانچہ برصغیر کے عظیم محدث علامہ عبید اﷲ رحمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں لفظ ’’خطب‘‘ میں اس بات کی دلیل ہے کہ عیدین کے لئے صرف ایک ہی خطبہ مشروع ہے اور جمعہ کی طرح اس کے دو خطبے نہیں ہیں نہ ہی ان کے درمیان بیٹھنے کاثبوت ملتا ہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے عیدین کے دوخطبے دینا قابل اعتبار سند سے ثابت نہیں لوگوں نے جمعہ پرقیاس کرتے ہوئے اسے رواج دے دیا ہے۔ [مرعاۃ المفاتیح ،ص:۳۰۰،ج ۲] البتہ جوحضرات ضعیف احادیث کے متعلق کچھ نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کے نزدیک عیدین کے دوخطبے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ ہمیں اس سے اتفاق نہیں ہے، البتہ ہم یہ بات کہنے کاحق رکھتے ہیں کہ ایسے مسائل کومحل نزاع بنا کر قوت ذہانت کوغلط مقاصد کے لئے استعمال نہ کیاجائے اوراختلاف وانتشار سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے اندر برداشت کامادہ پیدا کیا جائے۔ [واﷲ اعلم بالصواب] سوال: نماز عید کے بعد مصافحہ ،معانقہ کرنے یا نہ کرنے کے متعلق صحیح مؤقف کی وضاحت کریں؟ جواب: ہم نے اہل حدیث مجریہ ۲۰دسمبر۲۰۰۲ ء میں اس مسئلہ کے متعلق تفصیلی فتویٰ لکھا تھا کہ نما ز عید کے بعد مصافحہ کرنے یاگلے ملنے کاثبوت کتاب وسنت سے نہیں ملتا ،یہ ایک رسم و رواج ہے جس سے گریز کرناچاہیے ۔البتہ عید کے بعد ایک دوسرے کو بایں الفاظ مبارک باد دی جاسکتی ہے’’تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْکُمْ‘‘یعنی ’’اﷲ تعالیٰ ہم سے اورآپ سے (یہ عبادت )قبول فرمائے۔‘‘ اگرچہ اس کے متعلق بھی کوئی مرفوع روایت صحیح سند سے ثابت نہیں ہے، تاہم بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان الفاظ کے ساتھ عید کے موقع پر مبارک باد دینا صحیح سند سے مروی ہے۔ اب ہم اس کے متعلق مزید گزارشات پیش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عید کے بعد جس دھوم دھام سے مصافحہ اورمعانقہ کیاجاتا ہے، یہ عمل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بالکل ثابت نہیں ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’جس عمل پرہماری طرف سے کوئی امرنہ ہووہ ردکردینے کے قابل ہے ۔‘‘ [صحیح مسلم ،الاقضیہ :۴۴۹۳] پھر مصافحہ اور معانقہ ملاقات اوررخصت ہوتے وقت مشروع ہے لیکن عید کے موقع پر اکٹھے روانگی، پھرواپسی ہوتی ہے اس موقع پر مصافحہ اور معانقہ کاکوئی سبب اوروجہ معلوم نہیں ہوتی مولانا ثناء اﷲ امر تسری رحمہ اللہ سے کسی نے اس کے متعلق سوال کیا توآپ