کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 162
کرتی ہے اس سلسلہ میں وہ خودکفیل بھی ہے ہمارے اہل حدیث حضرات کابھی یہی حال ہے وہ بھی ایک جگہ نماز عید ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جس مسجد میں جمعہ ہوتا ہے وہاں عید پڑھنے کااہتمام کیاجاتا ہے، پھر شہری آبادی میں کھلے میدان ناپید ہیں زیادہ سے زیادہ سکولوں ،کالجوں میں کھیلنے کے لئے گراؤنڈ یاپبلک پارک یاہسپتال وغیرہ میں کھلی جگہ میسر آسکتی ہے ۔وہ بھی موجودہ انتظامیہ کی مرہون منت ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق بہتراورافضل ہے کہ نمازعیدین ادا کرنے کے لئے کسی کھلی جگہ کاانتخاب کیا جائے تاکہ ظاہری طورپر ہمارا عمل اسوۂ نبوی کے مطابق برقرار رہے ،اگرکسی وجہ سے ایسا کرناممکن نہیں تونماز عیدین مسجد میں ادا کی جا سکتی ہیں۔ لیکن مجبور خواتین کے لئے الگ اہتمام کرناہوگا کیونکہ اپنی مجبوری کی وجہ سے وہ مسجد میں نہیں آسکتیں ،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسلمانوں کی دعاؤں میں شمولیت اختیار کرنے کی بہت تاکید کی ہے ۔اصول فقہ کاقانون ہے کہ مجبوری کے پیش نظرممنوع اشیاء بھی جائز ہوجاتی ہیں۔جب کہ نماز عید کامسجد میں ادا کرناممنوع نہیں بلکہ افضل اورغیر افضل کافرق ہے ۔ [واﷲاعلم ] سوال: بیشتر احباب عیدین کی نماز کے متعلق پوچھتے ہیں کہ کتاب وسنت کی روشنی میں اس کا وقت کیا ہے؟ جواب: امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں نماز عیدین کے متعلق ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے ’’عید کے لئے صبح سویرے جانا۔‘‘ پھر انہوں نے ایک معلق روایت کاحوالہ دیا ہے۔حضرت عبداﷲ بن بسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ’’ہم نماز عید سے اس وقت فارغ ہوجاتے تھے جب وقت تسبیح، یعنی نفل پڑھنا جائز ہوجاتا ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب العیدین :۱۰] اس معلق روایت کوامام ابوداؤد نے اپنی مکمل سند کے ساتھ ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداﷲ بن بسر رضی اللہ عنہ جب لوگوں کے ہمراہ نماز عید پڑھنے گئے تو امام نے عید پڑھانے میں دیر کردی ،آپ نے اس تاخیر کاشدت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہم تو (عہد نبوی )میں اس وقت نماز عید سے فارغ ہوجاتے تھے۔‘‘ اس وقت چاشت کا وقت تھا۔ [ابوداؤد، الصلوٰۃ :۱۱۳۵] طبرانی میں ہے یہ اشراق کاوقت تھا۔ [عمدۃ القاری، ص:۱۸۱،ج ۵] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں دوسری حدیث بیان کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اس دن ہمارا پہلا کام نماز پڑھنا، پھر قربانی کرناہے، جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کوپالیا۔‘‘ [صحیح بخاری ،العیدین :۹۶۸] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ا س دن کے آغاز میں نمازعید کی تیاری کے لئے اورکسی چیز میں مصروف نہیں ہونا چاہیے، تیاری کے بعد جلدی روانہ ہوناچاہیے، یہ اس بات کامتقاضی ہے کہ نماز عید کے لئے جلدی کرناچاہیے ۔ [فتح الباری ،ص:۵۸۹،ج ۲] ان احادیث کاتقاضاہے کہ نماز عید طلوع آفتاب سے پہلے نہیں پڑھی جاسکتی ہے اورنہ ہی عین طلوع کے وقت پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ کراہت کے اوقات ہیں۔ طلوع آفتاب کے بعد جب نوافل پڑھنے کاوقت ہوتا ہے تونماز عید کے وقت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ شارح بخاری ابن بطال نے اس پر فقہا کااجماع نقل کیا ہے۔ [شرح بخاری ابن بطال، ص:۵۶۰،ج ۲ ] نماز عید کا آخری وقت زوال آفتاب ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوایک مرتبہ زوال آفتاب کے بعد چاند نظر آنے کی اطلاع ملی توآپ نے فرمایا:’’تمام لوگ کل صبح نماز عید کے لئے عید گاہ پہنچیں۔‘‘ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۱۱۵۷] اگراس وقت نماز عید پڑھنے کی گنجائش ہوتی توآپ اسے کل آیندہ تک مؤخر نہ کرتے ،اس کاواضح نتیجہ یہ ہے کہ نماز عید کا