کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 161
نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نما ز سردیوں میں جلد پڑھتے اورسخت گرمی میں دیر سے ادا کرتے ۔ [صحیح بخاری ،الجمعہ :۹۰۶] نماز جمعہ اورخطبہ جمعہ کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاعمل یہ ہے کہ آپ نماز کولمبا اور خطبہ کومختصر کرتے تھے ،خطبہ میں اﷲ کاذکر ہوتا ۔ [نسائی، الجمعہ :۱۴۱۵] راوی کابیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ اورخطبہ جمعہ کے متعلق اعتدال اورمیانہ روی اختیار کرتے ۔ [ترمذی ،الجمعہ:۵۰۷] حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جمعہ کے دن مختصر خطبہ دینے کاحکم دیتے تھے ۔ [ابوداؤد ،الجمعہ :۱۱۰۶] حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ کام کی چندباتوں پرمشتمل ہوتا تھا ۔ [ابوداؤد ،الجمعہ :۱۱۰۷] یہ روایات پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جمعہ کے دن خطبہ کو طویل کرکے افضل وقت سے تجاوز نہیں کرناچاہیے ۔جبکہ ایک روایت ہے کہ جمعہ کے دن نماز کوطویل اورخطبہ کومختصر کرنا خطیب کی عقلمند ی اورسمجھ داری کی علامت ہے۔ [صحیح بخاری ،الجمعہ :۸۶۹] اس کا یہی مطلب ہے کہ جمعہ کی نماز عام نمازوں سے لمبی اور خطبہ عام خطبوں سے مختصر ہوناچاہیے ،ان روایات کی روشنی میں اگر خطبہ ساڑھے بارہ بجے شروع کیاجائے توا یک بجے یا سواایک بجے نماز کوکھڑاکردیا جائے۔ یہ افضل وقت ہے اس سے تجاوز کسی صورت میں نہیں ہوناچاہیے ،بہرحال خطبہ میں بے جا طوالت جو نماز میں تاخیر کاباعث ہوکسی صورت میں مستحسن نہیں ہے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: ہم اپنی بعض مجبوریوں کی وجہ سے مسجد میں عیدین کی نماز اداکرتے ہیں بعض حضرات اعتراض کرتے ہیں کہ ایسا کرناخلاف سنت ہے ،کیا کسی مجبوری کے پیش نظر مسجد میں نماز عید نہیں پڑھی جاسکتی؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں ۔ جواب: بلاشبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر عیدین کی نماز کھلے میدان میں اداکرتے تھے ،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے مسجد نبوی کی دائیں جانب ’’بقیع ‘‘کاانتخاب کرتے ،وہاں بے شمار خودرو درخت تھے ان کے درمیان عیدین کی نماز ادا کرنے کے لئے آپ نے ایک جگہ مخصوص کی تھی، یہ بقول حافظ ابن حجر رحمہ اللہ مسجد نبوی سے ایک ہزار فٹ دورتھی۔ [فتح الباری، ص:۵۷۹،ج ۲] نماز استقا ء پڑھنے کے لئے بھی اسی جگہ کا انتخاب کرتے تھے۔ حضرت نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ بھی اس مقام پرادا کی گئی، آج کل وہاں مسجد غمامہ تعمیر ہے۔ کہاجاتا ہے کہ یہاں نماز استسقاء کے دوران ایک بادل نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پرسایہ کئے رکھا تھا، لہٰذا آج کل مسجد غمامہ سے موسوم کیاجاتا ہے ۔جدیدتحقیق کے مطابق یہ جگہ مسجد نبوی کے باب السلام سے تقریباً 1500فٹ کے فاصلے پر ہے۔ نویں صدی ہجری تک اسی مسجد میں عیدین کی نماز ادا کی جاتی رہی ، پھر مسجد نبوی کے کشادہ ہونے کے باعث اسی مسجد میں نماز عیدین کا اہتمام کیاجانے لگا۔ الغرض رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مدینہ منورہ کی آبادی انتہائی محدود تھی مسجد نبوی کے دائیں بائیں گھنے جنگلات تھے بائیں جانب بقیع الغر قد، یعنی جنت البقیع تھا اب وہاں جنگلات کانام ونشان تک نہیں ہے مسجد نبوی بہت کشادہ ہوچکی ہے صرف ایک اور مرحلہ توسیع سے شاید رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی عید گاہ مسجد نبوی کا حصہ بن جائے ،بہرحال نماز عید کھلے میدان میں ادا کرنے کا مقصد شوکت اسلام کااظہار تھا جوآج کل ناپید ہے ،کیونکہ ہمارے ہاں محلے کی مسجد کی انتظامیہ خود اپنی عیدکااہتمام