کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 160
٭ ایک آدمی دوران خطبہ لوگوں کی گردنوں کوپھلانگتا ہوا آیا توخطبہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ’’بیٹھ جا !تو نے تکلیف دہ معاملہ کاارتکاب کیا ہے۔‘‘ [ابوداؤد ،الجمعۃ :۱۱۱۸] ٭ خطیب دوران خطبہ کسی پراگند ہ حال انسان کے لئے سامعین سے تعاون کی اپیل بھی کرسکتا ہے۔ [نسائی ،الجمعۃ :۱۴۰۹] ٭ امام ابوداؤد نے ایک عنوان بایں الفاظ میں قائم کیا ہے کہ’’ کسی ناگہانی حادثہ کی وجہ سے خطبہ منقطع کرسکتا ہے۔ ‘‘اس عنوان کے تحت ایک واقعہ پیش کیاہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما گرتے پڑتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے ،ان کی یہ حالت دیکھ کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ منقطع کردیا اورانہیں پکڑ کر اپنے پاس منبر پربٹھایا، پھر خطبہ کی تکمیل کی ۔ [ابوداؤد ،الجمعۃ :۱۱۰۹] ان احادیث کے پیش نظر خطیب حالات وظروف کو مدنظر رکھتے ہوئے، خطبہ جمعہ کے اختتام پرجلسہ یادرس قرآن وغیرہ کا اعلان کرسکتا ہے ،شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: ہماری مسجد میں عرصہ دراز سے سواایک بجے نماز جمعہ ادا کی جاتی تھی مقامی ایک خطیب کے کہنے کے مطابق اس کا وقت ایک بجے کردیا گیا ۔اس طرح مسجد میں اختلاف کاآغاز ہوا جو ختم ہوتا نظر نہیں آتا ،براہِ کرم نماز جمعہ کے افضل وقت کی نشاندہی کردیں، شاید اس طرح موجودہ جماعتی اختلاف ختم ہو جائے؟ قرآن وحدیث کے مطابق جواب دیں۔ جواب: تمام نمازوں کوان کے اوقات پرادا کرنا نہایت ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’نماز پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پرفرض کی گئی ہے ۔‘‘ [۴/النساء :۳۳] یہ بات بھی مبنی برحقیقت ہے کہ نماز جمعہ کونمازظہر کی جگہ پرادا کیاجائے، یعنی نماز جمعہ کی ادائیگی کاوہی وقت ہے جونماز ظہر کوادا کرنے کاوقت ہے، اب سوال یہ ہے کہ حدیث کے مطابق نماز ظہر کاوقت کون سا ہے ۔ اس سلسلہ میں صحیح ترین روایت حسب ذیل ہے: حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ’’اٹھیے اورنماز ادا کیجئے‘‘ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھلنے لگا، پھراگلے دن ظہر کے لئے آئے اورنماز ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کاسایہ اس کے برابر ہوچکاتھا ۔آخر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا ان دونوں اوقات کے درمیان نمازوں کاوقت ہے ۔ [مسند امام احمد، ص:۳۳۰، ج ۲] امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث اوقات نماز کے متعلق صحیح ترین حدیث ہے۔ [ترمذی، المواقیت: ۱۴۹] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز ظہر کاوقت زوال آفتاب سے لے کر کسی چیز کاسایہ اس کے برابر ہونے تک ہے۔ آج کل گھڑیوں کا دور ہے، اس لئے نماز ظہر زوال آفتاب سے تقریباً بیس منٹ بعد اداکرنا افضل ہے لیکن سخت گرمی میں ایک گھنٹہ سے ڈیڑھ گھنٹہ تک تاخیر کی جاسکتی ہے۔ نماز جمعہ کے متعلق حدیث میں ہے کہ اس کا وقت بھی زوال آفتاب سے شروع ہوجاتاہے۔ [صحیح بخاری ،الجمعہ :۹۰۴]