کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 158
جمعہ وعیدین سوال: اکثرخطبا اورواعظین حضرات اپنے خطبات وتقاریر کے آغاز میں عربی خطبہ پڑھنے کے بعد عام طور پر درود پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں، بعض حضرات توعوام کوبھی تلقین کرتے ہیں کہ درود شریف پڑھ لیں اس کی شرعی حیثیت واضح کریں؟ جواب: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت ہیں۔ آپ کے احسانات کے پیش نظر اہل ایمان کوہر وقت، ہرجگہ آپ پردرود بھیجنے کاحکم ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجتے رہو، تمہار ا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے ۔‘‘ [مسند احمد] بلکہ جس مجلس میں اﷲکاذکر نہ کیاجائے اوررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے وہ قیامت کے دن ایسے نقصان کاباعث ہوگی جس کی تلافی نہیں ہوسکے گی بلکہ حسرت وارمان کے علاوہ وہاں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ جومجلس اﷲ کے ذکر اوررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پردورد پڑھے بغیر برخاست ہوجائے وہ قیامت کے دن نقصان کاباعث ہوگی۔ [بیہقی، ص: ۲۱۰، ج ۳] ایک روایت میں ہے کہ ایسے لوگ جنت میں داخل ہونے کے باوجود ایسے افسوس سے دوچار ہوں گے کہ اسے فراموش نہیں کرسکیں گے ۔ [مسند احمد، ص: ۴۶۳،ج ۲] علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان احادیث کی ثقاہت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجلس میں اﷲ کاذکر اوررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا ضروری ہے۔ [الاحادیث الصحیحہ، ص: ۱۶۲،ج ۱] جمعہ کے دن بالخصوص حکم ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پربکثرت درود بھیجنا چاہیے، چنانچہ حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو کیونکہ جوآدمی جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کادرود مجھ پرپیش کیاجاتا ہے ۔‘‘ [مستدرک حاکم ،ص: ۴۲۱،ج ۲] اس قسم کی ایک روایت حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [سنن ابی داؤد، الجمعۃ:۱۰۴۷] جمعۃ المبارک اورعیدین کے خطبات میں درود پڑھنے کے متعلق بعض اسلاف کا عمل ملتا ہے ۔چنانچہ عبداﷲ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مقام خیف میں حضرت عبداﷲ بن ابی عتبہ کے ہمراہ تھے ،اس نے خطبہ میں اﷲ کی حمد وثناکی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود پڑھا اور دعائیں مانگیں، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [فضل الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۸ تحقیق البانی ] حضرت ابواسحاق عمر وبن عبداﷲالسبیعی رحمہ اللہ تابعی کہتے ہیں کہ میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کودیکھا کہ وہ خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کر کے توجہ سے بیٹھتے ،کیونکہ خطبہ میں وعظ و نصیحت اوررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پردرود وسلام ہوتا تھا۔ [فضل الصلوٰۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۸۷ تحقیق البانی] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی تالیف ’’جلاء الافہام‘‘ میں متعدد مقامات کی نشاند ہی کی ہے جہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پردرو د پڑھنا چاہیے ،ان میں سے خطبات جمعہ وعیدین بھی ہیں ۔انہوں نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاعمل بیان کیا ہے کہ وہ خطبات میں درود