کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 154
کرتے وقت دعا استفتاح پڑھناچاہیے یا نہیں؟ جواب: نماز میں داخل ہونے کے لئے تکبیر تحریمہ کہنافرض ہے، حدیث میں ہے کہ نماز کی تحریم ’’ اللّٰه اکبر ‘‘ سے، اس کی تحلیل ’’السلام علیکم‘‘ ہے۔ [ابو داؤد ،الصلوٰۃ: ۶۱۸] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کونماز میں داخل ہونے کے لئے تکبیر تحریمہ کاحکم بھی دیا تھا۔ [صحیح بخاری، الاستیذان: ۶۲۵۱] اس کے علاوہ ہرمرتبہ اٹھتے اورجھکتے وقت ’’ اللّٰه اکبر‘‘ کہا جائے، جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوہر مرتبہ اٹھتے وقت، جھکتے وقت ،کھڑے ہوتے وقت اوربیٹھتے وقت ’’اﷲ اکبر‘‘ کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسندامام احمد، ص:۴۱۸ج ۱ ] صورت مسئلہ میں آہستہ’’ اللّٰه اکبر‘‘ کہنے پرکسی قسم کاسجدہ سہونہیں ہے، اگرچہ امام کو چاہیے کہ وہ بآواز بلند اﷲ اکبر کہے تاکہ مقتدی حضرات سن لیں اور ان کی نما ز میں کوئی خلل واقع نہ ہو اوراگر بھول کرااللّٰه اکبر نہیں کہا جاسکا توسجدہ سہو کرنا ہو گا، جیسا کہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر سہوکے لئے دوسجدے ہیں ۔‘‘ [مسندامام احمد، ص:۲۸۰ج ۵] جب کوئی شخص امام کے ساتھ دوسری یا تیسری رکعت میں شامل ہو تاہے تو شامل ہونے والے کی پہلی رکعت شمار ہو گی اور دعائے استفتاح پڑھنا پہلی رکعت میں مشروع ہے اگر کسی وجہ سے نہیں پڑھ سکا تو اسے فوت شدہ رکعات پڑھتے وقت اس دعا کو پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ رکعات دعائے استفتاح کا محل نہیں۔ سوال: نماز وتر کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونفل پڑھنے کاحکم دیا ہے، جبکہ ایک حدیث میں ہے کہ رات کے وقت تمہاری آخری نماز وترہونی چاہیے اگرکوئی وتروں کے بعدنفل نہ پڑھے تواس کے متعلق کیاوعید ہے؟ جواب: حدیث کی رو سے وتر کو رات کی آخری نماز قرار دیاگیا ہے، جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔‘‘ [صحیح بخاری ،الوتر:۹۹۸] لیکن احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے بعد دورکعت بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے ۔ آپ نماز وتر کے بعد دورکعت بیٹھ کر پڑھتے اور جب رکوع کرناہوتاتوکھڑے ہوجاتے تھے۔ [صحیح مسلم ،حدیث نمبر :۷۳۸] اورحضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے بعد بیٹھ کر دو ہلکی پھلکی رکعات پڑھتے تھے۔ [مسند امام احمد، ص:۲۹۸ج ۶] حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے بعد دورکعت پڑھتے تھے اوران میں سورۃ الزلزال اور سورۃ الکافرون پڑھتے تھے ۔ [طحاوی، ص: ۲۰۲، ج۱۲] وترکے بعد دورکعت پڑھنے کے متعلق آپ کاعمل ہی نہیں بلکہ احادیث میں ارشاد بھی منقول ہے، جیسا کہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے آپ نے فرمایا: ’’یہ سفر بہت مشقت طلب اوربھاری ہوتا