کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 153
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے پیش نظر قرآنی آیت سے استدلال صحیح نہیں ہے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: نما ز کے اوقات اوران کی ادائیگی کاطریق کار سکھانے کے لئے حضرت جبرائیل علیہ السلام دو دن مسلسل آتے رہے کیا مکی دور کے طریق کاراور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں نماز کی ادائیگی کے متعلق کوئی فرق تھا تواسے واضح کیا جائے، جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں رفع الیدین پہلے تھا بعد میں اسے منسوخ کردیا گیا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں؟ جواب: مکہ مکرمہ بیت اﷲ کے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کواوقات وطریقہ نماز بتانے کے لئے حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے ،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تونماز کے متعلق کچھ نئے احکام نازل ہوئے اورکچھ احکام ایسے بھی تھے جن کی مدت ختم ہونے پرانہیں ختم کردیا گیا، مثلاً: دوران نماز پہلے کسی ضرورت کے پیش نظر گفتگو کرنے کی اجازت تھی، جسے منسوخ کردیاگیا ۔چنانچہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں پہلے دوران نماز گفتگو کرنے کی اجازت تھی، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ’’اﷲ کے حضور ادب سے کھڑ ے ہوا کرو۔‘‘ [۲/البقرہ :۲۳۸] پھرہمیں نماز میں خاموش رہنے کاحکم دیا گیا۔ [صحیح بخاری ،الصلوٰۃ :۱۲۰۰] اسی طرح سلام پھیرتے وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ہاتھوں کواٹھاتے تھے، جیسا کہ گھوڑا اپنی دم کو ہلاتا ہے ہمیں بعد میں اس سے منع کردیا گیا۔ [صحیح مسلم ،الصلوٰۃ :۹۷۰] نماز کی رکعا ت پہلے دو،دوتھیں بعد میں ظہر ،عصر اورعشاء کی نماز جب حضر میں پڑھی جائے تو اس میں مزید دو،دورکعات کااضافہ کردیا گیا، البتہ سفر کی نماز کواپنی حالت پربرقرار رکھاگیا۔ [بخاری :۱۰۹۰] لیکن رفع الیدین ایک ایسی سنت ثابتہ ہے جس میں کسی وقت کسی صورت میں نسخ کی کوئی حدیث نہیں ہے۔رفع الیدین کے چار مواقع ہیں ،تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے وقت ،رکوع سے سر اٹھاتے وقت اورتیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین پرتمام امت کااجماع ہے اورباقی تین مقامات میں رفع الیدین کرنے پربھی اہل کوفہ کے علاوہ تمام علمائے امت کا اتفاق ہے، بقو ل امام شافعی رحمہ اللہ اس کا مقصد اﷲ تعالیٰ کی عظمت کااظہار اورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر اس سنت پر عمل کیا۔ اس سنت متواترہ کوعشرہ مبشرہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی بیان کرتے اوراس پرعمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بنا پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اورسبیل المؤمنین کی اتباع کے پیش نظر تمام مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ رکوع جاتے، اس سے سر اٹھاتے وقت اﷲ کی عظمت کااظہار کرتے ہوئے رفع الیدین کریں۔ اس کے علاوہ دعویٰ نسخ کا یامنافی سکون کا شوشہ ، عدم دوام کاشاخسانہ، سنت غیرمؤکدہ کی تحقیق ،غیر فقیہ راویوں کاغیر روایتی نکتہ یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سنت کوثابت کرنے کے لئے ایک مستقل رسالہ ’’جزء رفع الیدین‘‘ لکھا ہے جواستاذی المکرم حضرت شاہ بدیع الدین راشدی رحمہ اللہ کی تحقیق سے مطبوع و متد اول ہے۔ سوال: اگر امام رکوع جاتے وقت یاسجدے سے اٹھتے وقت اﷲ اکبرکہنابھول جائے یا آہستہ آواز سے پڑھے کہ نمازی نہ سن سکیں تواس پر سجدہ سہوکرنا ہے یا نہیں، نیز اگرکوئی شخص دوسری یاتیسری رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو تو اسے فوت شدہ رکعات ادا