کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 152
ہے کہ اسے جہری نماز وں میں بآواز بلند پڑھا جائے یا اسے آہستہ پڑھا جائے۔امام شافعی رحمہ اللہ بآواز بلند پڑھنے کومسنون قرار دیتے ہیں جبکہ جمہوراہل علم کے نزدیک بسم اﷲ کواونچی آواز سے پڑھنا مسنون نہیں ہے۔ فریقین کے پاس دلائل ہیں۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ہمراہ نمازیں پڑھی ہیں،میں نے ان سے کسی کواونچی آواز سے بسم اﷲ پڑھتے ہوئے نہیں سنا ہے۔ [مسلم ،الصلوٰۃ :۶۰۵] ایک دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اونچی آواز سے بسم اﷲ نہیں پڑھتے تھے۔ [مسند امام احمد، ص:۱۷۰،ج ۳] امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ وہ لوگ آہستہ بسم اﷲ پڑھتے تھے۔ [صحیح ابن خزیمہ، ص:۲۵۰،ج ۱] ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دوران نماز بسم اﷲ کوآہستہ پڑھا جائے جبکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے نماز پڑھی اوربسم اﷲ بآواز بلند پڑھی اورفرمایا کہ میں نماز کے متعلق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کررہاہوں۔ [دارقطنی ،ص:۳۰۸،ج ۱] ان روایات کے پیش نظرہمارا موقف ہے کہ دوران نماز بسم اﷲ کوپڑھنا دونوں طرح جائز ہے، البتہ آہستہ پڑھنے کے متعلق احادیث زیادہ صحیح اورواضح ہیں، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اوران کے شاگرد رشید امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اسی موقف کواختیار کیا ہے۔ [زاد المعاد،ص:۱۹۹،ج ۱] بعض احادیث میں بسم اﷲپڑھنے کاذکرنہیں ہے، انہیں راوی کے عدم علم یا قراء ت کے آہستہ پرمحمول کیاجائے۔ سوال: کیانماز کی ہررکعت میں قراء ت سے پہلے ’’اعوذ بااللّٰه من الشیطٰٰن الرجیم‘‘ پڑھنا ضروری ہے ،اگر ضروری ہے توقرآن وحدیث سے اس کی کوئی دلیل ضرور تحریر کریں؟ جواب: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب نما زکے لئے کھڑے ہوتے تو دعائے استفتا ح پڑھنے کے بعد تعوذ پڑھتے ۔ [ابوداؤ د ،الصلوٰۃ :۷۷۵] تعوذ کے لئے کئی ایک الفاظ ہیں جن میں دوزیادہ مشہور ہیں: 1۔ ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْخِہٖ وَنَفْثِہٖ‘‘ [مسندامام احمد،ص:۵۰ج ۳] 2۔ ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ایک قرآنی آیت سے استدلال کرتے ہوئے اس تعوذ کوہررکعت میں مشروع قرار دیا ہے اورلکھا ہے کہ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار دیا ہے ۔ [تمام المنۃ، ص:۱۷۶] لیکن ہمارے نزدیک اسے پہلی رکعت میں قراء ت سے پہلے پڑھنا چاہیے، جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ سے قراء ت شروع فرماتے۔ [صحیح مسلم ، المساجد :۹۴۱] امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی رکعت کے لئے اٹھتے توقراء ت شروع فرمادیتے اورخاموش نہ رہتے۔ جیسا کہ ابتدا نماز میں خاموش رہتے تھے ۔ [زادالمعاد،ص:۲۳۴،ج ۱]