کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 150
جماعت کو بحالت رکوع پاؤتواسے رکعت شمارنہ کرو۔‘‘ امام شوکانی رحمہ اللہ نے فریقین کے دلائل کوسامنے رکھتے ہوئے جمہور کے موقف کوکمزور قرار دیا ہے۔ [نیل الاوطار:ص:۴۱،ج ۲] سوال میں پیش کردہ احادیث میں کوئی تعارض نہیں ہے ،بلکہ دونوں احادیث اپنے اپنے مقام پر صحیح ہیں ۔ سوال: دوسری رکعت کے لئے ہاتھوں کے سہارے اٹھناچاہیے یامٹھی بند کر کے۔ کتاب وسنت کے حوالے سے اٹھنے کی کیفیت کو وضاحت سے بیان کریں؟ جواب: دوسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت کچھ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں پرٹیک لگاکراٹھنے کے بجائے سیدھے تیر کی طرح اٹھتے ہیں اوربطوراستدلال یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں پرٹیک لگائے بغیر تیر کی مانند اٹھتے تھے لیکن یہ حدیث من گھڑت اورموضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں خصیب بن حجدرنامی ایک راوی کذاب ہے۔ [مجمع الزوائد: ۲/۱۳۵] نیز یہ روایت صحیح بخاری کی اس حدیث کے بھی خلاف ہے ،جس میں صراحت کیساتھ یہ بیان ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسرے سجدے سے اپنا سرمبارک اٹھاتے توبیٹھتے، زمین پرٹیک لگاتے، پھردوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے ،اب سوال یہ ہے کہ زمین پرٹیک لگاکراٹھتے وقت ہاتھوں کی کیفیت کیاہوگی،کیاکھلے ہاتھوں اٹھنا چاہیے یامٹھی بند کرکے کھڑے ہوناچاہیے ،اس کے متعلق ازرق بن قیس رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کودیکھا کہ وہ نماز میں جب (دوسری رکعت کے لئے ) کھڑے ہوتے تو آٹا گوندھنے والے کی طرح مٹھی بند کرکے زمین پرٹیک لگاکرکھڑے ہوتے ،میں نے ان سے اس کے متعلق سوال کیا توآپ نے فرمایا میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوایسا کرتے دیکھا ہے ۔ [غریب الحدیث لابی اسحاق الحربی :۲/۵۲۵] اگرچہ اس روایت پرہیثم بن عمران کی وجہ سے اعتراض کیا گیا ہے لیکن امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔ (۷/۵۷۷) محدث العصر علامہ البانی مرحوم نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [سلسلہ الاحادیث الضعیفہ: ۲/۳۹۲] بعض اہل علم نے اس کی یہ توجیہہ بھی کی ہے کہ آٹا گوندھتے وقت کبھی کھلے ہاتھ استعما ل ہوتے ہیں، لہٰذا کھلے ہاتھوں سے ٹیک لگا کر اٹھنے کی گنجائش ہے لیکن یہ توجیہہ امر واقعہ کے خلاف ہے کیونکہ کھلے ہاتھوں سے آٹانہیں گوندھا جاتا ہے بلکہ مٹھی بندکر کے اسے گوندھا جاتا ہے۔ لہٰذا ہماری تحقیق یہی ہے ،کہ دوسری رکعت سے کھڑے ہوتے وقت مٹھی بند کرکے زمین پرٹیک لگاکھڑے ہوناچاہیے۔ [واﷲ اعلم ] سوال: ہم نماز کی ابتدا میں دعائے استفتاح کے طور پر ’’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ ۔۔۔۔۔۔الخ‘‘پڑھتے چلے آرہے ہیں مگرآج کل کسی عالم نے بتایا کہ یہ دعا صحیح نہیں ہے بلکہ ’’اَللّٰہُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ‘‘پڑھنی چاہیے۔ اس کے متعلق راہنمائی فرمائیں کہ ہم کونسی دعا پڑھیں؟ جواب: مذکورہ دعائے استفتاح متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مرفوعاًوموقو فاًمروی ہے کہ محدثین کرام نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تومذکورہ دعا پڑھتے۔