کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 149
ایک رکعت پالی اور باقی ایک رکعت طلوع آفتاب کے بعد پڑھی تواس نے پوری نماز کوپالیا اور جس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پڑھی اورباقی تین رکعات آفتاب کے بعد پڑھیں تواس نے عصر کی نما زکوپالیا ۔ [بیہقی، ص:۳۷۹،ج ۱] اس روایت پرامام بیہقی رحمہ اللہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے ۔ اس بات کی دلیل کہ اس طرح طلوع آفتاب سے اس کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ عرب کے نامور عالم دین شیخ محمد صالح عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگرکسی کونماز کاوقت ختم ہونے سے پہلے پہلے ایک رکعت پڑھنے کاوقت مل جاتا ہے تووہ گویا پوری نماز وقت ادا ہی میں پڑھتا ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے پوری نماز کوپالیا۔اس کامفہوم مخالف یہ ہے کہ اگرکسی کووقت ختم ہونے سے پہلے پہلے ایک رکعت سے کم حصہ ادا کرنے کاموقع ملتا ہے تووہ وقت ادا کوپانے وا لا نہیں ہوگا، نیز اس کایہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ انسان دانستہ طورپر نماز کومؤخر کرے،نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی نماز وقت ادا میں ہی مکمل کرے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’منافق کی نماز یہ ہے کہ وہ بیٹھا سورج کاانتظار کرتا رہتا ہے جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان چلاجاتا ہے توکھڑا ہوکر کوے کی طرح ٹھونگے مارکر اسے جلدی جلدی مکمل کرلیتا ہے وہ اس میں برائے نام ہی اﷲکاذکر کرتا ہے۔‘‘ [رسالہ مواقیت الصلوٰۃ ،ص:۱۶] اورجس حدیث میں طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے ممانعت کاذکر ہے اس سے مراد اوقات مکروہ کابیان ہے کہ انسان مقصد اور ارادہ سے طلوع یا غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھے ،ایسے اوقات میں نماز پڑھنا اس لئے منع ہے کہ ان اوقات میں کفار عبادت کرتے ہیں اورطلوع وغروب آفتاب کے وقت شیطان کی عبادت کی جاتی ہے اورجوانسان طلوع وغروب آفتاب سے پہلے نماز شروع کرلیتا ہے وہ اس حکم امتناعی میں شامل نہیں ہوگا۔ [واﷲ اعلم ] سوال: جس نے رکوع پالیا تحقیق اس نے رکعت پالی،اس حدیث کاحوالہ درکار ہے ،نیز ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے سورۂ فاتحہ نہ پڑھی اس کی نماز نہیں ہوتی ،ان دونوں احادیث میں بظاہر تعارض ہے ،اس کی وضاحت کریں؟ جواب: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ حدیث درج ذیل کتب میں ہے ۔ [صحیح ابن خزیمہ :۱۶۲۲،ابوداؤد : ۸۹۳،دارقطنی ، ص:۳۴۷ ج ۱،مستدرک حاکم، ص:۲۱۶ج ۱] ہمارے نزدیک امام کے ساتھ بحالت رکوع ملنے سے رکعت نہیں ہوتی ،البتہ اس سے رکعت کاثواب مل جاتا ہے کیونکہ رکعت کے لئے دوچیزوں کا ہونا ضروری ہے، ایک قیام دوسرے قراء ت فاتحہ، امام کیساتھ رکوع میں شامل ہونے سے یہ دونوں چیزیں رہ جاتی ہیں اگرچہ جمہور کایہ موقف ہے کہ ایسی حالت میں رکعت ہوجاتی ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ جس رکعت میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ شمارہ نہیں ہوگی۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’جزء القرائۃ‘‘ میں حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کاقول نقل کیا ہے ’’اگر تم