کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 148
ان روایات کا تقاضا ہے کہ نماز میں قراء ت کے متعلق کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگرچہ حجرات کے بعد سورتوں کوپڑھنا بہتر ہے۔ [واﷲ اعلم] سوال: (الف) بعض اوقات دوران نماز آدمی قمیص کے بازو یااپنی شلواراوپر نیچے کرتا ہے یاگرمی کی وجہ سے قمیص کے بازو اوپر کرلئے جاتے ہیں کیاایسا کرنے سے نماز میں کوئی نقص آتا ہے یا نہیں؟ (ب) بعض لوگ گرمیوں میں نماز کے وقت میلی سی بنیان یا گنداسا کپڑا جسم پر لپیٹ لیتے ہیں، حالانکہ گھر میں کپڑے موجود ہیں، کیا ایسا کرنے سے نماز ہو جاتی ہے؟ جواب: جب آدمی نماز پڑھتا ہے تواپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔ نمازی کوچاہیے کہ وہ ہراس ظاہری شکل و صورت یا باطنی کیفیت وہیئت سے اجتناب کرے جواس کی مناجات پراثر انداز ہوں یا دوران نماز اس کے خشوع وخضوع میں کمی کا باعث ہوں۔ کپڑوں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اے بنی آدم !تم ہرنماز کے وقت اپنی زینت کواپناؤ۔‘‘ [۷/الاعراف:۳۱] اپنی نماز کے وقت کپڑے میلے کچیلے اورگندے نہ ہوں ۔اچھے صاف ستھرے اورپاکیزہ لباس میں نماز اد اکی جائے ،گرمی کی وجہ سے یہ کوئی معقو ل عذر نہیں ہے کہ گندی سی بنیان یا میلے کچیلے کپڑے کوجسم پرلپیٹ کرنماز ادا کر لی جائے ،اس طرح کی شکل وصورت میں ہم کسی کے ہاں بطور مہمان یابازار جاناپسند نہیں کرتے، لہٰذا اس سے اجتناب کرناچاہیے۔سوال میں بیان کردہ تمام صورتوں سے نماز کے ثواب میں ضرورکمی آجاتی ہیں، لہٰذا ان صورتوں سے پرہیز کرناچاہیے۔ [واللہ اعلم] سوال: قرآن کریم میں مختلف مقامات پرسجدہ تلاوت کرنے کاحکم دیا گیا ہے آیت سجدہ میں کوئی مخصوص لفظ ہوتا ہے جس کی وجہ سے سجدہ کرنے کا حکم ہے یااورکوئی وجہ ہوتی ہے؟ جواب: قرآن کریم میں جن آیات کی تلاوت پرسجدہ کرنے کاحکم ہے وہاں کوئی ایسا مفہوم ضرور ہے جسے سجدہ سے مناسبت ہوتی ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ جہاں بھی سجدہ وغیرہ کاذکر ہووہاں سجدہ تلاوت کرناضروری ہو، جیسا کہ سورۂ یوسف میں گیارہ ستاروں اورشمس وقمر کے سجدہ کرنے کاذکر ہے لیکن وہاں سجدہ تلاوت کاحکم نہیں ہے ۔بہرحال جن مقاما ت پرسجدہ کرنے کاحکم ہے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ہیں ہمیں وہاں سجدہ تلاوت کرناچاہیے ۔اس سجدہ کی مناسبت ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔اس کے متعلق ہمیں دماغ سوزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: ایک حدیث میں ہے کہ جس نے سورج نکلنے سے پہلے ایک رکعت پالی اس نے نماز فجر کوپالیا جبکہ ایک دوسری حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ وضاحت فرمائیں ؟ جواب: مکمل حدیث اس طرح ہے کہ ’’جس نے طلوع آفتاب سے پہلے نماز فجر کی ایک رکعت کوپالیا اس نے گویا نماز فجر کو پا لیا او رجس نے غروب آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی وہ نماز عصر پانے میں کامیاب ہوگیا۔‘‘ [صحیح بخاری، مواقیت: ۵۷۹] اس حدیث کاقطعًا یہ مقصد نہیں ہے کہ طلوع آفتاب یا غروب آفتاب سے پہلے ایک رکعت پڑھ لینے سے ہی پوری نماز ادا ہوجائے گی اوراسے بقیہ نمازاداکرنے کی ضرور ت نہیں بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ اگرکوئی شخص طلوع آفتاب یاغروب آفتاب سے پہلے ایک رکعت پڑھ لے تو اس نے نماز کے وقت ادا کوپالیا ۔اب باقی ماندہ نماز طلوع آفتاب یاغروب آفتاب کے بعد پڑھے گا توبھی اسے وقت ادا میں پڑھنے کاثواب ملے گا۔ نماز کاجوحصہ وقت نکلنے کے بعد پڑھا گیا ہے اسے بھی ادا ہی شمار کیا جائے گا وہ قضا میں شامل نہیں ہوگا ۔جمہور محدثین کے ہاں حدیث کایہی مفہوم ہے، چنانچہ مندرجہ ذیل حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس شخص نے طلوع آفتاب سے پہلے