کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 146
جوان کی سابقہ حق الخدمت کے طورپر جاری رہے اورامامت کے لئے کسی اورصحت مند امام کا بندوبست کریں۔ اس امام کوبھی چاہیے کہ وہ اس قدر طمع اورلالچ نہ کرے بلکہ ازخود اس منصب سے دستبردار ہوجائے ،اہل جماعت اتفاق کرکے اس امام کی منت سماجت کریں تاکہ وہ برضاورغبت اس مصلے کوچھوڑ دے۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آرہی کہ جب جماعت نے ان کی جگہ پرایک اما م مقرر کردیا توپھر وہ زبردستی کیونکر مصلے پر آجاتے ہیں ۔ممکن ہے کہ وہ سماجی طورپر اثر ورسوخ والا ہے یااس کی پشت پرکچھ اثر ورسوخ رکھنے والے ہیں یادیہاتی ماحول کی وجہ سے کوئی مجبوری حائل ہے ۔بہرحال ہمارے نزدیک ایسے حالات میں نماز ہوجاتی ہے لیکن اس پردوام اوراستمرار صحیح نہیں ہے ۔ [واللہ اعلم] سوال: اس دورمیں ہمارے پاس کپڑوں کی کمی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود بعض حضرات آدھے بازو والی شرٹ پہن کر نماز پڑ تے ہیں کیا اس سے نماز میں تو کوئی فرق نہیں آتا ؟ جواب: ارشادباری تعالیٰ ہے کہ’’ اے اولادِ آدم !تم ہرمسجد میں حاضری کے وقت اپنی زینت یعنی لباس پہن لیاکرو۔‘‘ (۷/الاعراف: ۳۱) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہاں زینت سے مراد ایسالباس ہے جوانسان کی شرم گاہ کوچھپا لے ۔اس سے معلو م ہوا کہ نماز میں سترپوشی فرض ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ،نمازی مرد پرستر ڈھانپنے کے علاوہ کندھے پرکوئی کپڑا رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر نماز پڑھنے کی ممانعت ہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے ہرگزکوئی ایسے کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ جس کاکوئی حصہ اس کے کندھے پرنہ ہو۔‘‘ [صحیح بخاری :۳۵۹] ایک دوسری روایت میں ہے کہ جوشخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے کپڑے کے دونوں کناروں کواس کے مخالف سمت کے کندھے پرڈال لینا چاہیے۔ [صحیح بخاری :۳۶۰] اگر کپڑا تنگ ہوتوصرف ازار کے طورپرمحض اپناستر ہی ڈھانپ لیناضروری ہے، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:’’ اگر کپڑا تنگ ہو تو اس کا تہبند باندھ لو ۔‘‘ [صحیح بخاری:۳۶۱] صورت مسئولہ میں نصف بازو والی بنیان یاقمیص پہن کر نماز ہوجاتی ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے اورنہ ہی ایسا کرنے سے ثواب میں کمی ہوتی ہے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: کیافرض نماز پڑھنے کے بعد سنت یانفل پڑھنے کے لئے جگہ تبدیل کرناچاہیے یااسی جگہ ہی انہیں ادا کیا جاسکتا ہے؟ جواب: فرض نماز اد اکرنے کے بعد سنت یانفل پڑھنے کے لئے جگہ تبدیل کرلی جائے یاگفتگو کے ذریعے ان کے درمیان فاصلہ کرلیاجائے ،کیونکہ حدیث میں ہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے: ’’ہم ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز نہ ملائیں تاآنکہ گفتگوکرلیں یا مسجد سے نکل جائیں ۔ ‘‘ [صحیح مسلم :۸۸۳] ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادافرمائی، پھرایک آدمی کھڑا ہوکر نماز پڑھنے لگا ،اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا توکہا بیٹھ جاؤ! کیونکہ اہل کتاب کواس بات نے ہلاک کیا تھا کہ ان کی نمازوں میں فاصلہ نہیں ہوتا تھا۔ تب رسول