کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 144
عصر ادا کی۔ [صحیح مسلم ،الحج :۱۲۱۸] اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرتے وقت دوسری نما ز کے لئے اذان کی ضرورت نہیں اس کے لئے صرف اقامت ہی کافی ہے، البتہ امام بخاری رحمہ اللہ کارجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوران سفر اگردو نمازوں کوجمع کرنے کی ضرورت پڑے توہرنماز کے لئے صرف اقامت پربھی اکتفا کیاجاسکتا ہے ۔اس مسئلہ کے لئے انہوں نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بھی قائم کیا ہے: ’’جب مغرب اورعشاء کوجمع کیاجائے توکیااذان دی جائے یاصرف اقامت پراکتفا کیاجائے ‘‘۔پھرامام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کاعمل پیش کیا ہے کہ اگر انہیں سفر میں جلدی ہوتی تواقامت کہہ کرنماز مغرب کی تین رکعت ادا کرتے، پھرتھوڑی دیر بعد اقامت کہی گئی توآپ نے عشا ء کی دورکعت ادا کیں۔ [صحیح بخاری ،تقصیرالصلوٰۃ :۱۱۰۹] دارقطنی کی روایت میں مزید وضاحت ہے کہ دوران سفر حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی نماز کے لئے اذان نہیں کہتے تھے۔ [فتح الباری،ص:۲۵۰ج۲] بہرحال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ دوران سفر اگرجمع کرناہوتو ایک اذان کہی جائے، پھر ہر نماز کے لئے اقامت الگ الگ ہو۔ [واﷲ اعلم ] سوال: نماز میں قراء ت کرتے وقت قرآنی سورتوں کی ترتیب کاخیال رکھناضروری ہے یااسے بلا ترتیب بھی پڑھا جاسکتا ہے، نیز عصر یاظہر کی آخری دورکعت میں فاتحہ کے علاوہ قراء ت کی جاسکتی ہے یانہیں؟ جواب: نماز میں قراء ت کرتے وقت قرآنی سورتوں کی ترتیب کاخیا ل رکھناضروری نہیں ہے ،تاہم بہترہے اس کا خیال رکھا جائے ۔کیونکہ عام طورپر جن سورتوں کورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں پڑھا ہے ان میں ترتیب کاخیال رکھا ہے، البتہ بعض اوقات بلاترتیب پڑھنا بھی منقول ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز میں پہلے سورۂ بقرہ، پھر سورۂ نساء اورپھر آل عمران پڑھی۔ [مسندامام احمد، ص:۳۸۲،ج ۵] حالانکہ سورئہ نساء ،سورۂ آل عمران کے بعد ہے ،امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے متعلق اپنی صحیح میں مستقل عنوان قائم کیا ہے کہ دوران نمازقراء ت کرتے وقت تقدیم وتاخیر میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ نیز ظہراورعصر کی آخری دورکعات میں بھی فاتحہ کے علاوہ قراء ت کی جاسکتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی آخری دورکعات میں پندرہ آیات کے برابر قراء ت کرتے تھے ۔ [ابوداؤد، الصلوٰۃ:۸۰۵] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخری دورکعات میں سورۂ فاتحہ کے بعد قرأت کرنامسنون عمل ہے ۔اگرکوئی آخری دورکعات میں صرف فاتحہ پڑھتا ہے توبھی جائز ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات آخری دورکعت میں صرف سورۂ فاتحہ کی قرأت کرتے تھے۔ [صحیح بخاری ،صفۃ الصلوٰۃ :۷۷۶] لہٰذا اس میں وسعت ہے ۔دونوں طرح عمل کیاجاسکتا ہے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: بندہ قدرے معذور ہے زمین پربیٹھنے سے سخت تکلیف ہوتی ہے، کھاناوغیر ہ چارپائی یاکرسی پربیٹھ کرکھاتا ہوں اورنماز