کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 143
معقو ل عذر کی وجہ سے گھر میں نماز اد اکرناضروری ہوتو بیوی خاوند دونوں جماعت کراسکتے ہیں، اس کی صورت یہ ہوگی کہ خاوند جماعت کرائے اوربیوی اس کے برابرکھڑے ہونے کے بجائے پیچھے کھڑی ہوگی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر ایک دفعہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کرائی تومیں اور ایک بچہ آپ کے پیچھے اورہماری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اکیلی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں ۔ [صحیح بخاری ،الاذان :۷۲۷] عورت کسی صورت میں مرد کی جماعت نہیں کرائے گی، خواہ وہ عالمہ فاضلہ ہی کیوں نہ ہو ۔ سوال: ہمارے ہاں ایک دن امام صاحب کودوران جماعت شدید درد ہوااو ر وہ بیٹھ گئے اوراسی حالت میں جماعت مکمل کی ، سلام کے بعد نمازی حضرات میں اختلاف ہوا کچھ کہنے لگے کہ ہمیں بھی بیٹھ کر نماز ادا کرناتھی جبکہ دوسرے حضرات کہنے لگے کہ ہمیں بیٹھنے کی کیاضروری تھی ؟اس سلسلہ میں وضاحت فرمائیں۔ جواب: جب امام کسی وجہ سے بیٹھ کرنما ز پڑھے تو مقتدی کوبیٹھ کرنماز پڑھنا چاہیے یاانہیں کھڑا رہنا چاہیے ،اس کے متعلق دونوں روایات ہیں ،چنانچہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ ہجر ی میں گھوڑے سے گرکرزخمی ہوئے توآپ نے اپنے گھر میں نماز پڑھائی اورفرمایا: ’’جب امام بیٹھ کرنماز پڑھے توتم بھی بیٹھ کرنماز ادا کرو۔‘‘ [صحیح بخاری ،حدیث نمبر:۶۸۸] لیکن دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرض وفات میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کرنماز پڑھائی توحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھائی اورلوگ بھی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے۔ [صحیح بخاری ،الاذان :۶۸۳] امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حضرت حمیدی کے حوالہ سے بایں الفاظ فیصلہ کیا ہے: ’’جب امام بیٹھ کرنماز پڑھے توتم بھی اس کے پیچھے نمازبیٹھ کرادا کرو،یہ واقعہ مرض قدیم میں پیش آیا تھا ۔ ‘‘اس کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں بیٹھ کر نماز ادا کی جبکہ لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے انہیں بیٹھنے کاحکم نہیں دیا ،اس لئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل کوعمل میں لانا چاہیے ۔ [صحیح بخاری :۶۸۹] اس لئے صورت مسئولہ میں اگرامام دوران نماز کسی وجہ سے بیٹھ گیا تومقتدی حضرات کوبیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ کھڑے ہوکر ہی نماز ادا کریں ۔اگرچہ قیس بن فہد انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عہد رسالت میں ان کاامام بیمار ہوگیا تووہ بیٹھ کرساری امامت کراتا تھا،ہم بھی بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔ [مصنف عبدالرزاق، ص:۴۶۲ج ۲] تاہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہمارے لئے نمونہ ہے اوراسی کے مطابق عمل کرناچاہیے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: موسم کی خرابی کی وجہ سے اگرمغرب کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ لی جائے تونمازعشاء کے لئے اذان کہناضروری ہے؟ جواب: سفر وحضر میں اگرکسی معقول عذر کی وجہ سے دونمازوں کوجمع کیاجائے تواذان ایک کہی جائے گی، البتہ اقامت ہرنماز کے لئے الگ الگ کہنا ہو گی، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران حج میدان عرفات میں وقوف فرمایا اس اثنا میں مؤذن نے اذان دی، پھراقامت کہی توآپ نے نماز ظہر ادا کی، پھر اقامت کہی تورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز