کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 141
وتاخیر سے پڑھنے کا بیان۔‘‘ [کتاب الاذان:۱۰۶] پھر آپ نے اس عنوان کوثابت کرنے کے لیے کچھ آثار وروایات پیش کی ہیں جواس مسئلہ کے اثبات کے لئے کافی ہیں، اس لئے نماز میں جہاں سے چاہیں قرآن پڑھ سکتے ہیں۔اس کے متعلق کوئی پابندی نہیں ہے، تاہم بہتر ہے کہ اختتام کے وقت مضمون کا خیال رکھاجائے۔ قرائے کرام اوراہل علم حضرات کے نزدیک قراء ت کامسنون اور پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ ہرآیت کے اختتام پروقف کیاجائے اوراسے الگ الگ پڑھا جائے۔ فصل ووصل کی اصطلاحات خیرالقرون کے بعد کی پیداوار ہیں ۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب قراء ت کرتے تو ہرآیت کوعلیحدہ علیحدہ پڑھتے۔ [مسند امام احمد، ص:۲۰۳،ج۶] بلکہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت کے متعلق سوال ہوا توآپ نے فرمایا کہ’’ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے وقت تمام حروف وکلمات واضح اورعلیحدہ علیحدہ ہوتے تھے ۔‘‘ [ترمذی ،فضائل القرآن:۲۹۲۳] ایک روایت میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ’’الحمداللّٰه رب العالمین‘‘ پڑھتے تو ٹھہرتے، پھر ’’الرحمن الرحیم‘‘ پڑھتے تو پھرٹھہر تے۔ [ترمذی، القراء ۃ:۲۹۲۷] ان احادیث کے پیش نظر ہم کہتے ہیں کہ مساجد کے قرائے کرام کوکم ازکم ترجمہ قرآن ضرور پڑھے ہوناچاہیے تا کہ آیات کے اختتام کے وقت انہیں پتہ ہوکہ ان کامابعد آیات سے تعلق ہے یانہیں ۔تاہم اگر کوئی اس بات کاخیال نہیں رکھتا تواس سے نماز کی ادائیگی میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ [واﷲ اعلم] سوال: ایک آدمی سفر پرہے اوروہ سفر میں نمازجمعہ باجماعت اداکرتا ہے ،کیا اسے نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھنے کی اجازت ہے، یعنی جمعہ کے ساتھ عصر جمع ہوسکتی ہے اس طرح بارش یاکسی شرعی عذر کی وجہ سے نماز جمعہ کے ساتھ نماز عصر کوجمع کیاجاسکتا ہے؟ کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔ جواب: واضح ہو کہ نماز وں کوجمع کرنے کی دوصورتیں ہیں: (الف) ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت بھی اس طرح اداکرناکہ پہلی نماز کاوقت گزرچکا ہویا دوسری نماز کاابھی وقت نہ ہوا ہو اسے حقیقی جمع کہا جاتا ہے اس کی پھر دوصورتیں ممکن ہیں: 1۔ جمع تقدیم، یعنی ظہر کے ساتھ عصر اورمغرب کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھنا۔ 2۔ جمع تاخیر، یعنی عصرکے ساتھ ظہر اورعشاء کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھنا۔ (ب) پہلی نماز کومؤخر کرکے آخری وقت اور دوسری کوجلدی کرکے پہلے وقت میں پڑھ لینا ،اس طرح بظاہر دونوں نمازیں جمع ہوجائیں گی لیکن درحقیقت اپنے اپنے اوقات میں اداہوں گی اس قسم کوجمع صوری کہتے ہیں ۔ رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے جمع تقدیم اورجمع تاخیر دونوں طرح پڑھناثابت ہے، جیسا کہ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اگرسورج ڈھلنے کے بعد سفرشروع کرتے تو ظہر اورعصر کواس وقت جمع فرمالیتے اوراگر سورج ڈھلنے سے پہلے سفر کرتے توظہر کومؤخر کرکے عصر کے ساتھ ادافرماتے اس طرح اگرسورج غروب ہونے کے بعد سفر شروع کرتے تومغرب اورعشاء اس وقت پڑھ لیتے اوراگر سورج غروب ہونے سے پہلے سفر شروع