کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 138
اگرامام نے اس قدرجلدی کی ہے کہ مقتدی حضرات اس کے سلام پھیرنے تک تشہد اوردرود نہیں پڑھ سکے ہیں توانہیں تشہد اوردرود پڑھ کرسلام پھیرنا چاہیے اوراگرمقتدی حضرات نے امام کے سلام پھیرنے تک تشہد اوردرود پڑھ لیا ہے لیکن اس کے بعد دعا وغیرہ نہیں پڑھ سکے تواس صورت میں مقتدی حضرات کوامام کے ساتھ سلام پھیر دیناچاہیے کیونکہ حدیث میں ہے : ’’امام اس لئے بنایاجاتا ہے تاکہ اس کی اقتدا کی جائے۔‘‘ [صحیح بخاری، الاذان: ۶۸۸] پہلی صورت میں چونکہ مقتدی حضرات کاتشہد اوردرود مکمل نہیں ہوا تھا اوران کا مکمل کرنا نماز کے لئے ضروری تھا، اس لئے انہیں تشہد اوردرود پڑھ کرسلام پھیرنا ہوگا ۔جبکہ دوسری صورت میں وہ تشہد اوردرود پڑھ چکے ہیں،لہٰذاانہیں امام کے ساتھ ہی سلام پھیردیناچاہیے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: اگرنماز کی چار رکعت پڑھناہوں توکیا پہلے تشہد میں درود شریف پڑھناضروری ہے؟ جواب: اس سلسلہ میں ہمارے ہاں افراط وتفریط اور انتہاپسندی ہے ،کچھ حضرات کاکہنا ہے کہ پہلے تشہد میں اگر درود پڑھ لیاجائے تو اس سے نماز میں نقص آجاتا ہے اوراس کی تلافی سجدہ سہو سے ہوسکے گی جبکہ دوسری طرف کچھ اہل علم کااصرار ہے کہ تشہد اول میں بھی دوسرے تشہد کی طرح درود پڑھنا ضروری ہے ،اعتدال یہ ہے کہ پہلے تشہد میں درود پڑھا جاسکتا ہے، جیسا کہ صدیقہ کائنات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے وقت نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ’’پھر آپ نورکعت اداکرتے اور آٹھویں رکعت کے علاوہ کسی رکعت میں نہیں بیٹھتے تھے ،آٹھویں رکعت میں بیٹھ کر اﷲ کی تعریف کرتے اور اس کے نبی پردرود بھیجتے، دعا کرتے، پھر سلام کے بغیر کھڑے ہوجاتے اس کے بعد نویں رکعت ادا کرکے بیٹھتے ،اﷲ کی حمد کرتے ،اس کے نبی پردرود بھیجتے اوردعا کرکے سلام پھیردیتے ‘‘ [سنن نسائی، قیام اللیل: ۱۷۲۱] اس حدیث میں واضح ثبوت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تشہد میں بھی اپنی ذات پراسی طرح درود پڑھا۔جس طرح دوسرے تشہد میں پڑھا تھا لیکن یہ درود پہلے تشہد میں ضروری نہیں ہے بلکہ صرف تشہد پراکتفا بھی کیاجاسکتا ہے، جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی تشہد میں تشہد سے فارغ ہوکر کھڑے ہوجاتے تھے۔ [مسند امام احمد، ص:۴۵۹ج۱] اس روایت پرمحد ث ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’پہلے تشہد میں دعا وغیرہ ترک کر کے صرف التحیات پڑھنے پرا کتفا کرنا۔‘‘ [صحیح ابن خزیمہ، ص:۳۵۰ج۲ ] اس کے علاوہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رفاع بن رافع رضی اللہ عنہ کوحکم دیاتھا کہ ’’جب تم نماز کے درمیان میں (تشہد )بیٹھو تواطمینان وسکون سے اپنابایاں پاؤں بچھا دو، پھر تشہد پڑھو۔‘‘ [ابوداؤد ، الصلوٰۃ :۸۶۰] واضح رہے کہ یہاں وسط الصلوٰۃ سے مراد درمیانی تشہد ہے کیونکہ یہ آخر الصلوٰۃ کے مقابلہ میں ہے۔ ان تمام روایات کاحاصل یہ ہے کہ درمیانی تشہد میں درود پڑھاجاسکتا ہے لیکن ضروری نہیں ہے ۔البتہ آخری تشہد میں اس کاپڑھنا ضروری ہے ،اب مذکورہ روایات سے واضح اورصریح حکم کے باوجود بعض اہل علم کی طرف سے اس تاویل کی کیاگنجائش ہے کہ ’’جن روایات میں تشہد اول کابغیر