کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 136
الفاظ یہ ہیں: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی رات نماز مغرب میں [قل یا ایھا الکافرون اور قل ھوااللّٰه احد] پڑھتے تھے ،اس روایت کے متعلق صاحب مشکوٰۃ نے شرح السنۃ کاحوالہ دیا ہے کہ اسے امام بغوی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشکوٰۃ ،حدیث نمبر :۸۵۴] شارح مشکوٰۃ مولانا عبید اﷲ رحمانی رحمہ اللہ نے مرعا ۃ المفاتیح میں لکھ دیا کہ امام بغوی نے شرح السنۃ میں اپنی سند کے ساتھ اس روایت کوبیا ن کیا ہے۔ [مرعاۃ المفاتیح ،ص:۳۹۸،ج ۲] لیکن جب شرح السنۃ کودیکھا گیا تومعلوم ہوا کہ اس میں دور،دور تک اس روایت کی سند کے متعلق کوئی سراغ نہیں ملتا بلکہ انہوں نے وضاحت سے لکھا ہے کہ یہ روایت جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی گئی ہے، یعنی انہوں نے صیغۂ تمریض ’’رُوِیَ‘‘ کے الفاظ سے اس روایت کو بیان کیا ہے ۔ [شرح السنۃ ، ص:۸،ج ۳] البتہ اس روایت کوامام ابن حبان رحمہ اللہ نے متصل سند سے نقل کیاہے ۔ [صحیح ابن حبان، حدیث نمبر ۵۵۲، ص:۱۵۹ج ۴] اسی طرح امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ [ بیہقی،ص:۳۹۱،ج۲] لیکن امام ابن حبان رحمہ اللہ نے جب اپنی کتاب ’’الثقات‘‘ میں سعید بن سماک کے ترجمہ میں نقل کیا تواسے ارسال کے ساتھ بیان کیااوروضاحت کی کہ یہ حدیث مرسل ہی محفوظ ہے۔ [کتاب الثقات، ص:۱۰۴، ج۲] واضح رہے کہ یہ روایت انتہائی کمزور ہے کیونکہ اس میں سعید بن سماک راوی متروک ہے، جیسا کہ علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے۔ [میزان الاعتدال، ص:۱۴۳،ج۲] حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے لیکن اس میں ’’لیلۃ الجمعۃ ‘‘کے الفاظ نہیں ہیں ۔ [ابن ماجہ :۸۳۳] اس روایت کے متعلق حافظ ا بن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بظاہر یہ سند صحیح ہے لیکن محدثین نے اسے معلول قرار دیا ہے، جیسا کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس روایت کوبعض راویوں نے غلط بیان کیا ہے، البتہ محفوظ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ان سورتوں کومغرب کی سنتوں میں پڑھتے تھے ۔ [فتح الباری، ص:۱۴۸،ج ۲] ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ مغرب کی سنتوں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سورتوں کاپڑھنا ثابت ہے لیکن نماز مغرب میں ان سورتوں کاپڑھنا مسنون نہیں، اس لئے اس کاالتزام صحیح نہیں ہے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: نمازکے ممنوعہ اوقات، یعنی طلوع وغروب آفتاب کے وقت فرض ،سنت ،نفل یاکوئی سببی نماز جائز ہے یا نہیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میںجواب دیں۔ جواب: حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جب آفتاب کاکنارہ طلوع ہونے لگے تونماز موقوف کردو تاکہ سورج بلند ہوجائے اورجب سورج کاکنارہ ڈوبنے لگے تو بھی نماز موقوف کردوتاکہ آفتاب پوری طرح چھپ جائے۔‘‘[صحیح بخاری : ۵۸۳] اس کی وجہ حدیث میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اس وقت سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری :۲۳۷۴]