کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 134
فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت ام سیلم رضی اللہ عنہا کے گھر نماز باجماعت کااہتمام فرمایا میں اورایک لڑکا آپ کے پیچھے اورحضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اکیلی ہمارے پیچھے کھڑی تھیں، اسی حالت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کرائی ۔ [صحیح بخاری ، الاذان:۷۲۷ ] اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی ہے جسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے بیان کیاہے۔ جوضعیف ہے، اس لیے ہم نے اسے بطور دلیل پیش نہیں کیا ، اسے بطورتائید پیش کیاجاسکتا ہے ۔ [الاحادیث الضعیفہ :۹۲۲] چونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے، اس لئے ہم نے اس صورت کواختیار کیاہے جوکتاب وسنت سے زیادہ قریب ہے ،دوسری دونوں صورتوں میں شرعی قباحتیں ہیں جن کی تفصیل ہم نے بیان کردی ہے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: عورت معقو ل انتظام اورشرعی پردہ کی صور ت میں نماز جنازہ پڑھ سکتی ہے یا نہیں، نیز عورت سپیکر کی آواز پر امام کی اقتدا میں اپنے گھر نماز جمعہ اوردیگر نمازیں باجماعت ادا کر سکتی ہے؟ جواب: عورت کانمازجنازہ میں شرکت کرناشرعاً جائز ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے مسجد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ [صحیح مسلم، الجنائز: ۹۷۳] لیکن دھوم دھام کے ساتھ خواتین کے لئے بسوں کااہتمام کرنا تاکہ انہیں نماز جنازہ میں شریک کیاجائے صحیح نہیں ہے اورنہ ہی ان کے لئے جنازہ کے پیچھے چل کرجانا جائز ہے،کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں نماز جنازہ کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر اس سلسلہ میں سختی نہیں کی جاتی تھی۔ [صحیح بخاری: ۶۳] اس لئے خواتین کانماز جنازہ میں شریک ہونا جائز ہے لیکن ان کی شمولیت کاباقاعدہ اہتمام کرنایا ان کا خود جنازہ کے پیچھے چلنا یاتدفین کے موقع پروہاں حاضر ہونا صحیح نہیں ہے ۔ جس قدر احادیث میں اجازت ہواس سے تجاوز نہیں کرناچا ہیے، نیزعورتوں کااپنے گھر میں سپیکر کی آواز پر نماز باجماعت ادا کرنامحل نظر ہے، اگر انہیں باجماعت نماز ادا کرنے کاشوق ہے تومعقو ل انتظام کے ساتھ مسجد میں حاضر ہوں اوروہاں جماعت میں شمولیت کرسکتی ہیں، حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اﷲ کی بند یوں کومساجد سے مت روکو۔ ‘‘ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۵۶۵] لیکن ان کاگھر میں نماز ادا کرنابہتر ہے،جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اپنی عورتوں کومسجدوں سے مت روکولیکن ان کے گھر ہی ان کے لئے بہتر ہیں۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۷۲،ج ۲] حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’خواتین کے لئے بہترین مساجد ان کے گھروں کی چاردیواری ہے۔‘‘ [مستدرک حاکم، ص:۲۰۹،ج ۱] لیکن یاد رہے! عورتوں کا خوشبو لگاکر اورزیب و زینت کے ساتھ مسجد میں جانا صحیح نہیں ہے، سادگی کے ساتھ اگرمسجد میں نماز باجماعت اداکرے تو جائز ہے۔ [واﷲ اعلم] سوال: جب جماعت ہورہی ہو یاکوئی شخص اکیلا نماز ادا کررہا ہو توکیا اسے سلام کہناجائز ہے اگرسلام کہا جا سکتا ہے، تو نماز ادا