کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 133
اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے لئے آنے والے کی نماز میں شمولیت ضروری ہے ،البتہ اگرکوئی شرعی عذرہوتو الگ بات ہے۔ صور ت مسئولہ میں کوئی شرعی عذر ایسا نہیں جس کے پیش نظر اسے کسی دوسرے شخص کاانتظار کرنے کے لیے یونہی مسجد میں ٹہلنے اورپھرنے کی اجازت دی جائے ۔ (ب) دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اکیلا کھڑ اہوجائے جیسا کہ آج کل ’’جدید تحقیق ‘‘ کی آڑ میں اس کی تلقین کی جاتی ہے، اس کے متعلق احادیث میں ممانعت ہے، چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ جوصف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہاتھا تو آپ نے اسے دوبارہ نماز پڑھنے کاحکم دیا۔ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ:۶۳۳] حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ [ابن ماجہ،اقامۃ الصلوٰۃ :۸۲۲] امیر صنعانی رحمہ اللہ حدیث ابی داؤد کے پیش نظر لکھتے ہیں کہ جس نے صف کے پیچھے اکیلے نما زپڑھی اس کی نماز باطل ہے۔ [سبل السلام :۲/۵۹۳] (ج) تیسری صورت یہ ہے کہ اگلی صف سے کوئی نمازی کھینچ کراپنے ساتھ ملا لیا جائے، اس طرح صف بندی کرکے نماز میں شامل ہو جائے، ہمارے نزدیک یہ صورت کتاب وسنت کے زیادہ قریب ہے کیونکہ سنت میں اس کی نظیر ملتی ہے وہ یہ ہے کہ جب امام اورایک مقتدی ایک ساتھ نماز پڑھ رہے ہوں، اسی حالت میں ایک تیسرا آدمی آجائے تواس کی شمولیت دو طرح سے ممکن ہے۔ (الف) امام کوآگے کردیاجائے اورخودمقتدی کے ساتھ صف بندی کرکے نماز شروع کر دے۔ (ب) اگرآگے دیوار ہے تو مقتدی کوپیچھے کھینچ کراپنے ساتھ ملائے اورنماز ادا کرے ۔ اس پر قطع صف کاالزام اس لئے درست نہیں ہے کہ صف بندی کے لئے اس نے ایسا کیاہے اوراس کے پیچھے آنے سے جوخلاپیدا ہواہے اسے دائیں یابائیں جانب سے پر کر لیا جائے، جیسا کہ دوران نماز اگر کسی کاوضو ٹوٹ جائے تووہ بھی اس کی زد میں آتا ہے ۔ واضح رہے کہ عورت کے اکیلے نماز پڑھنے کوامام کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونے کے لئے نظیر نہیں قرار دیاجاسکتا کیونکہ عورت کو دوران جماعت اکیلی نمازپڑھنے کی اجازت ہے ۔چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ اس کے متعلق ایک عنوان بایں الفاظ قائم کرتے ہیں ’’عورت کے لئے جائز ہے کہ وہ اکیلے ہی صف بنالے ‘‘ پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث کو بطور دلیل پیش کیا ہے وہ