کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 132
کھڑے ہوکر صبح کی سنتیں ادا کرنا تویہ بھی حدیث کے خلاف ہے کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ ’’جب فرض نماز کے لیے اقامت ہوجائے تواس وقت فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی۔‘‘ [صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین: ۱۶۴۴ ] اس حد یث سے ثابت ہوا کہ جب فرض نماز کی ادائیگی کے لئے تکبیر کہہ دی جائے تواس وقت سنت ادا کرناجائز نہیں ہے، اس حکم میں صبح کی سنتیں بھی شامل ہیں، اس لئے مسجد کے کونے یاستون کے پیچھے یامسجد کے باہر دروازے کے پاس کسی جگہ پر انہیں اد ا کرنادرست نہیں، بلکہ جماعت میں شامل ہوکر فراغت کے بعد فوت شدہ سنتوں کو ادا کیا جائے اس کا جوازاحادیث سے ملتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دوران جماعت سنتیں پڑھنے والوں کوسزادیا کرتے تھے، جیسا کہ محدثین کرام نے وضاحت کی ہے۔ [معالم السنن، ص: ۷۷ج۲] [واﷲ اعلم ] سوال: ’’الصلٰوۃ خیر من النوم ‘‘کے الفاظ فجر کی پہلی اذان میں کہے جائیں یادوسری اذان میں ،بعض لوگوں کاخیال ہے کہ ان الفاظ کوپہلی اذان میں کہا جائے وضاحت فرمائیں؟ جواب: ’’الصلٰوۃ خیر من النوم ‘‘کے الفاظ فجر کی پہلی اذان میں کہے جائیں جبکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ’’جب تم صبح کی پہلی اذان دو تواس میں ’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کہو۔ ‘‘ [مسنداحمد، ص:۴۰۸،ج ۴] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ الفاظ فجر کی پہلی اذان میں کہے جائیں ۔لیکن اس بات کابھی علم ہوناچاہیے کہ حدیث مذکورہ میں اذان سے کیا مراد ہے ؟اس سے مراد وہ اذان ہے جونماز فجرکاوقت شروع ہونے کے بعد کہی جاتی ہے اوردوسری اذان سے مراد اقامت ہے اور اقامت کوبھی اذان کہا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’ہر دواذانوں کے درمیان نماز ہے ‘‘ [ صحیح بخاری، الاذان: ۹۲۷] اس حدیث میں دواذانوں سے مراد اذان اوراقامت ہے۔ جواذان نمازفجرکے وقت سے پہلے ہوتی ہے اسے فجر نہیں کہا جاتا کیونکہ وہ توفجر سے پہلے ہوتی ہے کیونکہ اس کامقصد حدیث میں بایں الفاظ میں بیان ہوا ہے ’’قیام کرنے والا گھرواپس آجائے اور سویا ہوا انسان خبردار ہوجائے۔‘‘ [صحیح بخاری ،الاذان :۶۲۱] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسے اذان تہجد کہنا بھی محل نظر ہے بلکہ اذان سحری کہنا چاہیے، بہرحال ’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ اس اذان میں ہیں جونماز فجر کے وقت کے بعد دی جائے۔ [واﷲ اعلم ] سوال: جب دوران جماعت نماز پہلی صف مکمل ہوچکی ہو تو بعد میں آنے والاکسی7 دوسرے نمازی کاانتظار کرے یا صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہوجائے یااگلی صف سے کسی آدمی کوکھینچ کراپنے ساتھ ملائے اورنماز شروع کردے ؟ جواب: دوران جماعت اگر کوئی نمازی آتاہے تواس کے لئے جماعت میں شمولیت کی تین صورتیں ممکن ہیں : (الف) وہ انتظار کرتا رہے تاکہ کوئی دوسراآدمی آجائے اوراس کے ساتھ صف بناکرنماز میں شامل ہو جائے، لیکن ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لئے آئے توامام کوجس حالت میں پائے اسی حالت میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔ [جامع ترمذی، الجمعہ:۵۹۱] نیز حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم کسی سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے دوران سفرنماز کاوقت ہوا تو آپ نے لوگوں کونماز پڑھائی ،جب نماز سے فارغ ہوئے توآپ نے دیکھا کہ ایک آدمی الگ تھلگ کھڑا ہے جس نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے اس سے باز پرس کرتے ہوئے فرمایا: ’’تونے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں ادا کی؟‘‘ اس نے عرض کیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا لیکن غسل کے لیے پانی نہیں مل سکا، اس لیے نماز میں شمولیت نہیں کی، آپ نے فرمایا: ’’تجھے تیمم کرکے نماز میں شامل ہو جانا چاہیے تھا۔‘‘ [صحیح بخاری،التیمم:۳۴۴]