کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 130
اسے روکتے رہے ،حتی کہ آپ کا بطن مبارک دیوار کے ساتھ لگ گیا اوروہ بچہ آپ کے پیچھے سے گزرگیا ۔ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ : ۷۰۸] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار سے بھی سترہ کی اہمیت کاپتہ چلتا ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی آدمی کو جوکہ دوستونوں کے درمیان نماز پڑھ رہاتھا، اسے ستون کے قریب کردیا اورفرمایا کہ اس کی طرف نماز پڑھ ۔ [صحیح بخاری ، تعلیقاًکتاب الصلوٰۃ، باب الصلوٰۃ الی الاستوانۃ] حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق حدیث ہے کہ وہ پالان کو اپنے اورقبلہ کے درمیان کرتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے۔ [مصنف عبدالرزاق، حدیث رقم :۲۳۷۴] حضرت انس رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ وہ مسجد حرام میں لاٹھی گاڑھ لیتے اوراس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ وہ جمعہ کے دن سترہ بناکرنماز پڑھ رہے تھے کہ بنوابی معیط کے ایک نوجوان نے ان کے سامنے سے گزرناچاہا توحضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسے روکا جب وہ باز نہ آیا توآپ نے اس کے سینے پرمار ا۔ [صحیح بخاری ،الصلوٰۃ : ۵۰۹] حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مؤذن اذان دیتا توکبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہوجاتے اورجلدی جلدی ستونوں کی طرف بڑھتے ،یہاں تک کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اوروہ، یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس طرح مغرب سے پہلے دورکعت ادا کرتے۔ [صحیح بخاری، الصلوٰۃ: ۶۲۵] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ستونوں کارخ، اس لئے کرتے تھے تاکہ نماز کے لئے انہیں سترہ بنائیں کیونکہ وہ علیحدہ علیحدہ نماز پڑھتے تھے ۔ [فتح الباری: ۲/۱۳۷] ان آثار سے معلو م ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز پڑھتے وقت سترے کابہت اہتمام کرتے تھے۔ مسجد کے اندر بھی سترہ کااہتمام کرناچاہیے۔ کیونکہ احادیث کے عموم کایہی تقاضاہے، پھرمتعدد روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انفرادی نماز میں ستونوں کارخ کرتے، بلکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کابذات خودبھی یہی عمل تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کے ’’باب الصلوٰۃ الی الاسطوانۃ‘‘ میں ہے پھر اہل علم کااختلاف ہے کہ مسجد حرام میں سترہ ہونا چاہیے یا نہیں؟ اگرمسجد کے اندر سترہ کاتصورنہ ہوتا تواس اختلاف کی چنداں ضرورت ہی نہ ہوتی۔ سوال: اگرامام سے دوران جماعت کوئی سجدہ رہ جائے اورسلام کے بعد یادآئے تواس کی تلافی کیسے ہوسکتی ہے کیااس کے لئے سجدہ سہوکافی ہوگا یا نہیں ؟ جواب: دوران نماز اگرکوئی سہو ہو جائے تواس کی تلافی کے لئے سجدہ سہو کیاجاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ہر سہو کے لئے دوسجدے ہیں۔ [ابن ماجہ ،کتاب اقامۃ الصلوۃ:۱۲۱۹] چونکہ یہ سجدے شیطان کے لئے ذلت اور رسوائی کا باعث ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے۔ [صحیح مسلم: ۵۷۱] اس لئے اگرکوئی مسنون عمل رہ جائے تو اس کی تلافی صرف دوسجدوں سے ہوجائے گی،جیسا کہ پہلاتشہدواجب نہیں