کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 127
٭ پہلے دودوکرکے چاررکعت ادا کی جائیں، پھرسات رکعات کی نیت کرکے آخری رکعت میں سلام پھیرا جائے۔ [مسندامام احمد، ص:۲۳۹،ج ۳] ٭ پہلے دو دو کر کے چھ رکعات ادا کی جائیں، پھر پانچ رکعت اس طرح اداہوں کہ آخری رکعت میں تشہد مکمل کرکے سلام پھیر دیا جائے۔ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین :۷۳۷] ٭ پہلے آٹھ رکعات دو دو کرکے اداکی جائیں، پھرتین وتر حسب ذیل طریقے سے پڑھے جائیں ۔ (۱)دورکعت پڑھ کرسلام پھیردیاجائے اور ایک وتر الگ پڑھاجائے اسے فصل کاطریقہ کہا جاتا ہے ۔ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین : ۷۳۶] (ب) تین رکعت درمیان میں تشہد بیٹھے بغیرادا کی جائیں اورآخری رکعت میں تشہدکومکمل کرکے سلام پھیردیا جائے۔ [مستدرک حاکم، ص:۴۴۷،ج ۱] اسے طریقہ وصل کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس آخری طریقہ کے مطابق تین وتر اداکرتے تھے، امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقہ کے مطابق نمازوتر پڑھتے تھے ،اگررات کونیند کاغلبہ ہویانسیا ن کی وجہ سے تہجد یا وتر بھول جائیں تواس کی ادائیگی کے متعلق علمائے کرام میں اختلاف ہے ،امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وتر کی ادائیگی ضروری ہے۔ اس لئے ان کے نزدیک ان کی قضا بھی ضروری ہے جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کاموقف ہے کہ اگر تہجد یاوتر رہ جائیں توانہیں بطور قضا نہیں پڑھنا چاہیے۔ امام شافعی اورامام احمد بن حنبل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اسے بطورقضا پڑھاجاسکتا ہے اس کے لئے وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے جب بھی بیدار ہو یا یاد آئے تواسے ادا کیا جاسکتا ہے ۔اس موقف کی بنیاد حدیث نبوی پر ہے۔ [مستدرک حاکم، ص:۴۴۳ج ۱] صحیح موقف یہ ہے کہ اگرکسی کاوظیفہ شب رہ جائے تواس کی قضا ضروری نہیں، اگر پڑھنا چاہیے تواگلے دن ظہر سے پہلے پہلے اسے ادا کر لے، اس صورت میں اسے رات کے وقت ادائیگی کا ہی ثواب ملے گا۔ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین : ۱۴۲] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ مبارک یہ تھا کہ جب نیند یاکوئی تکلیف قیام اللیل میں رکاوٹ بن جاتی تودن میں بارہ رکعات ادافرما لیتے تھے۔ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین : ۱۳۹] سوال: ’’صلوٰۃ الاوابین‘‘ کے متعلق وضاحت فرمائیں کہ اس کاوقت کون سا اوراس کی رکعات کتنی ہیں۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس کاوقت مغرب اورعشاء کے درمیان ہے جبکہ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ صلوٰۃ اشراق کو ہی صلوۃ الاوابین کہاگیا ہے اس کے متعلق تفصیل سے لکھیں؟ جواب: بعض روایات میں ہے کہ ’’صلوٰۃ الاوابین‘‘ ایک مستقل نفلی نماز ہے جومغرب کے بعدعشاء سے پہلے پڑھی جاتی ہے اس سلسلہ میں درج ذیل دوروایات پیش کی جاتی ہیں: ٭ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ’’صلوٰۃ الاوابین‘‘ جب نمازی اپنی نماز مغرب سے فارغ ہوں تو اس وقت سے لے کر