کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 126
[صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین : ۴۳۰] ٭ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومرتبہ فرمایا کہ ’’مغرب سے پہلے دورکعات ادا کرو ،تیسری بارفرمایا کہ جس کادل چاہے، یہ اس لئے فرمایا کہ کہیں لوگ اسے سنت مؤکدہ نہ بنالیں۔‘‘ [صحیح بخاری ،التہجد: ۱۱۸۳] ٭ جمعہ سے پہلے نوافل کی ادا ئیگی پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ حدیث میں ہے کہ’’ جوشخص غسل کرکے جمعہ کے لئے آئے اور خطبہ شروع ہونے تک جس قدر ہوسکے نوافل ادا کرتا رہے، پھر خطبہ جمعہ شروع سے آخرتک خاموشی سے سنے تواس کے گزشتہ جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک اورمزید تین(۳)دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ [صحیح مسلم، الجمعہ:۸۵۷] ٭ جمعہ کے بعد چار رکعت سنتیں پڑھنا چاہیے ۔جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جب تم جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہو تو چار رکعات اداکرو۔ [صحیح مسلم ،الجمعہ :۸۸۱] اگر کوئی گھر آکر پڑھنا چاہے تو دو رکعات ہی کافی ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ تاآنکہ اپنے گھر آتے اور دو رکعات پڑھتے۔ [صحیح بخاری، الجمعہ،۹۳۷] نماز عشاء کے ساتھ ہم نے وتروں کاذکر اس لئے نہیں کیاکہ وترعشا ء کی نماز کاحصہ نہیں ہیں بلکہ وترنماز تہجد کا حصہ ہیں جو تہجد کے ساتھ ملاکر پڑھے جاتے ہیں۔ جو حضرات رات کواٹھنے کے عادی نہ ہوں شریعت نے انہیں سہولت دی ہے کہ وہ نماز عشاء کے ساتھ انہیں پڑھ لیں۔ حدیث میں ہے جسے اندیشہ ہوکہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا وہ اول شب ہی وتر پڑھ لے۔ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین :۷۵۵] ان فرائض وسنن کے علاوہ نوافل کی ادائیگی پرکوئی پابندی نہیں ہے ۔آپ حضرات اپنی خوشی سے جس قدر چاہیں نوافل پڑھ سکتے ہیں لیکن ان نوافل کوفرائض کے ساتھ نتھی نہ کیاجائے ۔واضح رہے کی قیامت کے دن جب نماز کے متعلق باز پرس ہوگی تو فرائض کی کمی کو نوافل وسنن سے پورا کیاجائے گا، اس لئے فرائض کی حفاظت کے لئے سنن اورنوافل بھی ادا کرنے چاہیں ۔ سوال: نماز تہجد کی گیارہ رکعت کس طرح ادا کی جائیں، نیز اگرکسی وجہ سے نمازتہجد نہ پڑھی جائے تواسے بطور قضا پڑھا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جواب: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عام طورپر تہجد کی گیارہ رکعات ادا کرتے تھے بعض اوقات تہجد سے پہلے دورکعات بطور تمہید یا افتتاح اداکرتے جوہلکی پھلکی ہوتیں، اس طرح تہجد کی رکعات تیرہ ہوجاتیں، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد مختلف انداز سے ادا کرتے تھے۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ دو دو رکعات اداکرنے کے بعد سلام پھیردیاجائے۔ آخرمیں ایک وتر الگ پڑھ لیاجائے ۔عام طورپررسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد اس طرح اد اکرتے تھے ۔ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین :۷۳۶] ٭ پہلے دورکعات الگ پڑھ لی جائیں، پھرنورکعات اس طرح ادا کی جائیں کہ آٹھویں رکعت میں تشہد پڑھاجائے، پھر کھڑے ہوکر ایک رکعت ادا کی جائے ۔ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین :۷۴۶]