کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 124
نماز پڑھے اوراس کے قریب ہوکر کھڑاہو۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۴۰۴،ج ۳] اورسترہ رکھنے کاحکم اس لئے دیا گیا ہے کہ مباد اشیطان انسان کی نماز کاٹ ڈالے۔ [مستدرک حاکم ،ص:۲۵۱،ج ۱] ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سترہ کااہتمام واجب ہے، البتہ جمہور اس کے استحباب کے قائل ہیں ۔پھرسترہ اور نمازی کے درمیان کم ازکم تین ہاتھ کافاصلہ ہوناچاہیے ۔چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں داخل ہوکر نماز پڑھی تودیوار کعبہ اورآپ کے درمیان تین ہاتھ کافاصلہ تھا۔ [مسند امام احمد، ص:۱۳،ج ۶] حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیوار قبلہ کے درمیان ایک بکری گزرنے کافاصلہ تھا۔ [صحیح بخاری ،الصلوٰۃ :۴۹۶] دوران جماعت صرف امام کوسترہ کااہتمام کرنا چاہیے۔ اس کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں کوسترہ کااہتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے ’’امام کاسترہ ہی مقتدی کاسترہ ہے ۔‘‘ مسجد میں اکیلے نماز پڑھنے کی صورت میں نماز ی حضرات کافرض ہے کہ وہ کسی دیوار ،ستون یاکسی نماز ی کے پیچھے اداکریں، اس کے لئے چھوٹے چھوٹے سترے بناکرمسجد میں رکھنے کی ضرورت نہیں ،یہ محض تکلف ہے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: اگرمسافر آدمی کسی مقیم امام کی اقتدا میں نماز ادا کرے اوراتفاق سے آخری دورکعات میں شامل ہوا ہوتوکیااسے امام کے ساتھ سلام پھیردیناچاہیے یااسے چار رکعات پڑھنا ضروری ہیں؟ وضاحت فرمائیں۔ جواب: مسافر انسان پردورکعت ادا کرناہی فرض ہے، اس لئے عقل کاتقاضا تویہی ہے کہ مسافر اگرمقیم کی اقتدا میں تیسری یاچوتھی رکعت میں شامل ہوتو اسے دورکعت ادا کرنے پرسلام پھیر دیناچاہیے، لیکن شریعت کی بعض نصوص اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار ایسے ملتے ہیں کہ اس معاملہ میں عقل کے فیصلے کے مطابق عمل نہیں کیاجاسکتا ،چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیاگیا کہ مسافر جب اکیلانماز پڑھتا ہے تودورکعات ادا کرتا ہے اورجب مقیم کی اقتدا میں پڑھتا ہے تو چار رکعتیں پڑھتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا یہی ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند امام احمد، ص:۵۰۳،ج ۲] امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے اپنی تالیف میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے جب مسافر مقیم کے ساتھ نماز میں شامل ہو تو کیاکرے ؟ اس کے تحت انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورتابعین رحمہم اللہ کے چند ایسے آثار نقل فرمائے ہیں کہ مسافر جب کسی مقیم شخص کی اقتدا میں نماز پڑھے تواسے مکمل نماز پڑھنا چاہیے، ان آثار کی تفصیل حسب ذیل ہے : 1۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگرمسافر مقیم امام کے ساتھ ایک رکعت میں شامل ہوتوامام کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد جونماز رہ گئی ہواسے ادا کرے۔ 2۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگرمسافر مقیم امام کے پیچھے نماز ادا کرے تو اسے پوری نمازپڑھناچاہیے ۔ 3۔ حضرت مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگرمسافر کسی مقیم امام کے پیچھے نمازپڑھے اوراسے ایک یادورکعت باجماعت مل جائیں توامام کے ساتھ نماز ادا کرکے اس کے بعد بقیہ نماز پوری کرے ۔