کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 123
ادا کرنے کے پابند ہیں ۔ سوال: صبح کی نمازکھڑی ہوتی ہے ،بعض لوگ جماعت میں شامل ہونے کی بجائے الگ سنتیں شروع کردیتے ہیں، کسی عالم دین نے صحیح بخاری کے حوالہ سے بتایا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صبح کی جماعت ہوتے ہوتے سنتیں ادا کی تھیں اس کی وضاحت کریں؟ جواب: نمازفجر سے پہلے دوسنتوں کی بہت اہمیت ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں فجر کی سنتوں کاسب سے زیادہ اہتمام کرتے تھے ۔ [صحیح بخاری ،التہجد :۱۱۶۹] ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی ترک نہیں کیا۔ [صحیح بخاری ،التہجد :۱۱۵۹] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اہمیت کوبایں الفاظ اجاگر کرتے ہیں کہ’’ نمازفجر کی دوسنتیں دنیاومافیہاسے بہتر ہیں۔‘‘ [صحیح مسلم ،صلوٰۃ المسافرین :۷۲۵] اگر یہ سنتیں فجر سے پہلے نہ پڑھی جاسکیں توانہیں نماز سے فراغت کے بعدبھی پڑھا جاسکتا ہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قیس رضی اللہ عنہ کوجماعت کے بعد یہ سنتیں پڑھنے کی اجازت دی تھی ۔ [مسند امام احمد :۵/۴۴۷] اگرنماز کے بعد بھی نہ پڑھی جائیں تو طلوع آفتاب کے بعد انہیں پڑھا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے نماز فجر کی دوسنتیں نہ پڑھیں وہ سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھ لے۔‘‘ [جامع ترمذی، الصلوٰۃ :۳۴۶] جماعت کے دوران الگ تھلگ دوسنتیں پڑھنا، جیسا کہ صورت مسئولہ میں ذکرکیا گیا ہے یہ درست نہیں ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب نماز فجر کے لئے اقامت کہہ دی جائے توفرض نماز کے علاوہ کوئی نماز قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ [صحیح مسلم، صلوٰۃ المسافرین : ۷۱۰] احناف نے یہ گنجائش نکالی ہے کہ اقامت کے بعد نماز فجر کی سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں ،اگرفجر کی دوسری رکعت فوت ہوجانے کا اندیشہ ہوتو سنتیں چھوڑ کر جماعت میں شامل ہوجاناچاہیے۔ لیکن ان کا یہ مؤقف کتاب وسنت کے خلاف ہے، سوال میں صحیح بخاری کے حوالہ سے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کاعمل بیان کیا گیا ہے وہ صبح کی جماعت کھڑی ہونے کے باوجود صبح کی سنتیں پڑھ لیتے تھے،تلاش بسیار کے باوجود یہ اثر صحیح بخاری میں نہیں مل سکا۔بہر حال اگرصبح کی سنتیں رہ جائیں توانہیں جماعت کے بعد فورًا یا طلوع آفتاب کے بعد پڑھا جاسکتا ہے ،لیکن دوران جماعت پڑھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ [واﷲاعلم] سوال: نمازی کے لئے سترہ کی کیا حیثیت ہے، اگرکوئی دانستہ سترہ کے بغیرنماز پڑھتا ہے توکیا شیطان اس کی نماز کوقطع کردیتا ہے، نیز سترہ اورنمازی کے درمیان کتنافاصلہ ہوناچاہیے؟ جواب: احادیث کے ا لفاظ سے نمازی کے لئے سترہ کا اہتمام کرنا ضروری ہے، چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’صرف سترہ کی جانب ہی نماز پڑھو۔’’ [صحیح ابن خزیمہ: ۸۰۰] حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو سترے کی طرف