کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 122
نیز حضرت عمر وبن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کابیا ن ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوایک مرتبہ صرف ایک کپڑے میں نماز بایں طورپر پڑھتے دیکھا کہ آپ نے اس کے دونوں کناروں کومخالف سمتوں میں کندھوں پرڈال رکھا تھا۔ [صحیح بخاری ،الصلوٰۃ:۳۵۶] ان احادیث کے پیش نظر ایک ستر پوش نمازی کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ صرف رومال وغیرہ کندھوں پرڈال کر نماز پڑھ لے یابازو والی بنیان پہن لے، ہاں، اگر رومال وغیرہ کندھوں پرڈالاہے تواس کے دونوں کناروں کوکھلا نہ چھوڑ اجائے ،بلکہ اس کی گرہ دے لی جائے کیونکہ کپڑے کوکھلا چھوڑدینا سدل ہے جس کی نماز میں ممانعت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز منہ ڈھانپنے اورسد ل سے منع فرمایا۔ [ابوداؤد، الصلوٰۃ: ۶۴۳] سدل یہ ہے کہ سر یاکندھوں پراس طرح کپڑا ڈالا جائے کہ وہ دونوں طرف لٹکتا رہے، ہاں اگر سریا گردن پرکپڑے کوبل دے کر لپیٹ لیا، پھراس کے دونوں کنارے لٹکیں تویہ سدل نہیں ہے اورنہ ہی اس کی ممانعت ہے ،البتہ عورت کے لئے ضروری ہے کہ دوران نماز اس کے چہرے اورہاتھوں کے علاوہ اس کے جسم کا کوئی حصہ کھلا نہ ہوحتی کہ اس کے قدم بھی ڈھکے ہوئے ہوں، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورت اوڑھنی اورایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے کہ جس میں اس کے قدم بھی چھپ جائیں۔ [سنن بیہقی، ص:۲۳۲ج ۲] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے۔ [بلوغ المرام، حدیث نمبر:۲۰۷] تاہم اس قسم کی موقوف روایت مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ اس میں جومسئلہ بیان ہوا ہے اس کاتعلق اجتہاد واستنباط سے نہیں ہے۔ صورت مسئولہ میں اگر رومال وغیرہ سے کندھوں کوڈھانپ لیاجائے تواس میں نمازہوجاتی ہے بشرطیکہ قابل سترحصہ ڈھانپا ہواہو۔ [واﷲاعلم] سوال: ٹریننگ کے لئے جانے والوں کووہاں کم ازکم ۲۱دن قیام کرناہوتا ہے لیکن وہاں نماز قصر پڑھائی جاتی ہیں اورجواساتذہ عرصہ دراز سے وہاں مقیم ہیں وہ بھی نماز قصر ادا کرتے ہیں ،اس کی شرعی حیثیت واضح کریں؟ جواب: نماز قصر کے متعلق محدثین کاموقف یہ ہے کہ اگرکسی نے اپنی اقامت گاہ سے نومیل کی مسافت طے کرنا ہوتو اقامت گاہ کی حدود کے بعد نماز قصر پڑھنا ہوگی ،اگرآنے اورجانے کادن نکال کرکسی مقام پر تین دن اورتین رات سے زیادہ پڑاؤ کا پروگرام ہو توقصر کی بجائے پوری نماز پڑھناہوگی ۔لیکن اگراقامت گاہ کی طرف واپسی کاپروگرام طے شدہ نہ ہو تو، یعنی آج واپس ہوناہے یاکل، تردد ہوتوجتنی دیر تک تردد ختم نہ ہو نماز قصر پڑھنے کی اجازت ہے ۔جہاد افغانستان کے وقت صورت حال بھی غیر یقینی ہوتی تھی کیونکہ روس کی افواج سے مزاحمت ہروقت جاری رہتی تھی ،کسی جگہ پرقیام مستقل نہیں ہوتا تھا ،ہم خود صوبہ جاجی میں اس قسم کی صورت حال سے پورے دوماہ دوچار رہے تھے،ایسے حالات میں نماز قصر پڑھنے کی اجازت ہے لیکن وطن کے اندر اس طرح کی صورت حال قطعاً نہیں ہے ،یہاں کسی دشمن سے مزاحمت کااندیشہ واضح نہیں ہوتاکہ غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر نماز قصر ادا کی جائے، موہوم خطرات توپاکستان میں ہرجگہ ہوسکتے ہیں ،اس لئے ہمارامؤقف یہ ہے کہ وطن کے اندر ٹریننگ سنٹرزمیں ۲۱دن تک قیام رکھنے والوں کوشرعاًنماز قصر پڑھنے کی اجازت نہیں اورجواساتذہ کرام تقریباً عرصہ دراز سے وہاں مقیم ہیں وہ بھی شرعی طورپر پوری نماز