کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 121
ہیں۔ ٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیتے کہ جب امام تکبیر کہے تو تم بھی کہو اورجب وہ ولاالضالین کہے تو تم آمین کہو اورجب وہ سمع ا ﷲ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو۔ [صحیح مسلم، الصلوٰۃ: ۹۳۲ ] چونکہ ’’اللّٰہم ربنالک الحمد‘‘ آہستہ کہا جاتا ہے۔ اس لئے آمین بھی آہستہ کہنی چاہیے کیونکہ دونوں کے لئے ایک جیسے الفاظ ہیں ۔ ’’ربنا لک الحمد‘‘اورآمین کہنے میں کوئی قدرمشترک نہیں ہے کہ دونوں کاحکم ایک ہو۔آمین کے متعلق صحیح روایات میں ہے کہ اسے بآواز بلند کہناچاہیے، پھر ’’ربنا لک الحمد‘‘ کے متعلق بآواز بلند کہنابعض روایات سے ثابت ہے، جیسا کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ’’ربنالک الحمد‘‘ کہا توآپ نے فرمایا کہ ’’ابھی بولنے والاکون تھا؟‘‘ صحابی نے جواب دیا کہ میں نے یہ کلمات کہے تھے آپ نے فرمایا کہ’’ میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کودیکھا کہ وہ ایک دوسرے پرسبقت کررہے تھے کہ اس عمل کوپہلے کون لکھے۔‘‘ [صحیح بخاری، الاذان: ۷۹۹ ] اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ربنالک الحمد بآواز بلند بھی کہاجاسکتا ہے ۔ ٭ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام تین چیزیں آہستہ کہے ،تعوذ ،تسمیہ اورآمین (محلیٰ ابن حزم) محلیٰ ابن حزم کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس روایت میں ابوحمزہ میمون الاعورنامی ضعیف اورمتروک ہے، نیز علامہ زیلعی حنفی اس راوی کے متعلق کہتے ہیں: دار قطنی نے اسے ضعیف کہاہے ۔امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے امام ابن معین کہتے ہیں کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے۔ [نصب الرایہ، ص:۳۷۳ج۲] ٭ ایک اعتراض یہ بھی کیاجاتا ہے کہ اونچی آمین کہناحاضرین کی تعلیم کے لئے ’’ایک آدھ دفعہ ‘‘حاضرین کوبتادیا کہ سورۂ فاتحہ کے بعد خاموشی والے لمحات میں یہ کلمہ کہاکرو ۔ہم بھی کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے معلم کی حیثیت رکھتے ہیں آپ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ خاموشی کے لمحات میں بآواز بلند آمین کہاکرو۔ہم اس پرعمل پیرا ہیں ۔لیکن جولوگ اس طرح کی موشگافیاں پیداکرتے ہیں کبھی انہیں زندگی میں ایک آدھ مرتبہ اونچی آواز سے آمین کہنے کاموقع ملے گا ؟اﷲتعالیٰ ہمیں سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ سوال: گرمی کے موسم میں دوران نماز مکمل جسم ڈھانپنا چاہیے یاکندھوں پررومال وغیرہ ڈال لیاجائے تواتناہی کافی ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں ۔ جواب: نمازی کے لئے ضروری ہے کہ دوران نماز اپنے ستر کے سمیت دونوں کندھوں کوبھی ڈھانپ کرنماز پڑھے۔ مردحضرات کاستر ناف سے گھٹنوں تک ہے جبکہ عورتوں کاساراجسم ہی ستر ہے مردوں کے لئے ستر کے علاوہ کندھوں کاڈھانپنا بھی ضروری ہے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پرکچھ نہ ہو۔‘‘ [صحیح بخاری ،الصلوٰۃ :۲۵۹]