کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 120
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ اس سے ثابت ہوا کہ امام اونچی آواز سے آمین کہے کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کوامام کی آمین کے ساتھ آمین کہنے کاحکم اسی صورت میں دے سکتے ہیں جب مقتدی کومعلوم ہوکہ امام اونچی آواز سے آمین کہہ رہا ہے۔ کوئی عالم تصور نہیں کرسکتاکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کوامام کی آمین کے ساتھ آمین کہنے کاحکم دیں جبکہ وہ اپنے امام کی آمین کو نہ سن سکے۔‘‘ [صحیح ابن خزیمہ، ص:۲۸۶ج ۱] حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘‘ پڑھا توآپ نے بآواز بلندآمین کہی۔ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۹۳۲] اس حدیث سے معلوم ہواکہ جہری نماز میں امام اورمقتدیوں کوآمین بآواز بلند کہنا چاہیے اورجب آہستہ قراء ت ہوتو آمین بھی آہستہ کہی جائے جبکہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہتے وقت اپنی آواز کو پست رکھا۔ [مسندامام احمد،ص:۳۱۶ج ۴] واضح رہے کہ آمین کا آغاز پہلے امام کرے گااس کی آواز سنتے ہی تمام مقتدی بآواز بلند کہیں گے امام سے پہلے یابعد میں اونچی آمین کہنادرست نہیں ہے لیکن اگرامام بآواز بلند آمین نہ کہے تو مقتدی حضرات کواونچی آواز سے آمین کہہ دیناچاہیے کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت امام کی اقتدا پرمقدم ہے ۔ حضرت عبداﷲبن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے مقتدی اتنی بلند آواز سے آمین کہاکرتے تھے کہ مسجد گونج اٹھتی تھی۔[صحیح بخاری تعلیقاً] عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ تابعی کہتے ہیں کہ میں نے دوسوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کودیکھا کہ وہ بیت اﷲ میں جب امام ’’وَلاَ الضَّآلِّیْنَ‘‘کہتا توسب بلندآواز سے آمین کہتے تھے ۔ [سنن بیہقی، ص:۵۹ج۲] اب بآواز بلند آمین کہنے پرسائل نے جواعتراضات کیے ہیں ان کامختصر جواب دیا جاتا ہے ۔ ٭ امام بخاری رحمہ اللہ نے بآواز بلندآمین کہنے کاعنوان قائم کیا ہے لیکن اونچی آمین کہنے کے متعلق کوئی صحیح مرفوع حدیث نہیں پیش کی۔ ہم نے آمین اونچی کہنے کے دلائل میں جوپہلی حدیث پیش کی ہے وہ امام بخاری رحمہ اللہ کی پیش کردہ ہے، وہ ملاحظہ کریں اور اس کے متعلق امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی وضاحت پڑھ لیں۔ ٭ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’تم اپنے رب کوعاجزی کرتے ہوئے اورچپکے چپکے پکارو۔‘‘ [۷/الاعراف:۵۵] اس آیت کے پیش نظرپسندیدہ دعا وہ ہے جس میں عاجزی اورآہستگی ہو۔آمین بھی ایک دعا ہے، اس لئے اسے آہستہ کہناچاہیے۔ ٭ ہم اہل حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کومعیار مانتے ہیں جہاں آپ نے آہستہ دعا کی ہے وہاں آہستہ اورجہاں بآواز بلند دعا کی ہے وہاں اونچی آواز سے دعا کرتے ہیں۔ آمین کے متعلق احادیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بآواز بلند کہتے تھے، اس لئے آمین کو بآواز بلند کہناچاہیے۔ یہ حضر ات خود بھی آیت کے خودساختہ مفہوم کے خلاف بلند آواز سے دعائیں کرتے ہیں جہری نماز وں میں سورۂ فاتحہ اونچی آواز سے پڑھتے ہیں جوایک دعاہے، پھر نماز کے بعد بھی بآواز بلند دعا کرتے