کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 117
ضروری ہیں۔ اس کے بعد اگرامام قیام میں ہے توقیام کی حالت اختیار کرتے ہوئے ہاتھ سینہ پرباندھ لئے جائیں لیکن اگر رکوع یاسجدہ میں ہے تونماز میں شمولیت کے بعد امام جیسی حالت اختیار کرلینی چاہیے، جب امام بحالت رکوع ہے تورکوع میں چلا جائے اور اگرامام سجدے میں ہے توسجدے میں چلاجائے۔ اس کے لئے ہاتھ سینے پرباندھنے کی ضرور ت نہیں ہے ،البتہ اسے دومرتبہ اﷲ اکبر کہناپڑے گا ،ایک نماز میں داخل ہونے کے لیے تکبیر تحریمہ کہنا اورپھر رکوع یاسجدہ میں جانے کے لئے اﷲاکبر کہنا۔اکثر طورپر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ امام جب رکوع میں ہوتا ہے توبعد میں آنے والاشخص نماز میں شامل ہوکر جلدی جلدی بحالت قیام سورۂ فاتحہ پڑھناشروع کردیتا ہے ،پھررکوع میں جاتا ہے ،جبکہ اس دوران امام رکوع سے سر اٹھالیتا ہے ۔دوران نماز امام کی مخالفت کرتے ہوئے جونماز کارکن ادا کیا جائے وہ سرے سے ہوتا ہی نہیں ہے،اس بنا پر اس قسم کالالچ نہیں کرناچاہیے ، بلکہ بعد میں آنے والے کوچاہیے کہ وہ تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ اٹھا ئے، پھر اﷲاکبر کہتا ہواامام کے ساتھ رکوع یا سجدہ میں شامل ہوجائے ،بحالت رکوع ملنے سے رکعت کو شمار نہ کیا جائے کیونکہ اس سے قیام اورقراء ت فاتحہ فوت ہونے سے رکعت نہیں ہو گی، اسے دوبارہ ادا کرناہوگا۔ [واﷲاعلم] سوال: دوران سفرجونماز رہ گئی ،گھر آکر وہ پوری پڑھی جائے یاقصر ادا کی جائے؟ جواب: دوران سفر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بایں طورپر نمازیں اداکرتے تھے کہ اگر زوال آفتاب یاغروب آفتاب سے پہلے سفر شروع کرتے توظہر کومؤخر کرکے عصرکے ساتھ اورمغرب کومؤخر کرکے عشاء کے ساتھ پڑھتے اوراگر سفر کاآغاز زوال آفتاب یا غروب آفتاب کے بعد ہوتا توعصر کومقدم کرکے ظہر کے ساتھ اور عشاء کومقدم کرکے مغرب کے ساتھ اد اکرتے، پھرسفر شروع کرتے، دوران سفرنماز فوت ہونے کاکوئی واقعہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ صرف ایک دفعہ نیند کی وجہ سے صبح کی نماز فوت ہوئی تھی جسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن چڑھے باجماعت ادافرمایا ۔جن کوائف کے ساتھ نماز فوت ہوتی تھی انہی کوائف کے ساتھ اسے ادا کیا گیا، اسی طرح حضرمیں غزوہ ٔخندق کے موقع پرکچھ نماز یں فوت ہوئی تھیں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب کے بعد فوت شدہ نماز وں کواد افرمایا اوراداکرتے وقت ترتیب کوملحوظ رکھا ،ان اشباہ ونظائر کوپیش نظر رکھتے ہوئے صورت مسئولہ کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ نماز جس حالت میں فوت ہوئی ،اداکرتے وقت اسی حالت کوپیش نظر رکھا جائے، مثلاً: ایک نماز سفر کی تیاری کے وقت فوت ہوگئی تواس وقت چونکہ چاررکعت ادا کرناتھی، اس لئے دوران سفر اس قسم کی فوت شدہ نماز کوچاررکعت کی شکل میں ہی اد اکیا جائے ،اس کے لئے یہ مفروضہ قائم کرناکہ قصر کی اباحت یارخصت سفر کی وجہ سے تھی گھر پہنچ کرقصر کاسبب (سفر)ختم ہوچکا ہے، لہٰذا اسے فوت شدہ نمازپوری پڑھنی چاہیے، محض سخن سازی ہے کیونکہ بات توفوت شدہ نمازوں سے متعلق ہے اسے کس حالت میں ادا کرناہے دیگر نمازیں تو اہتما م سے ہی ہوں گی،کیونکہ ان کے لئے قصرکاسبب زائل ہوچکا ہے بہرحال فوت شدہ کوادا کرتے وقت اس کے فوت ہونے کی حالت کومدنظر رکھناہوگا ۔اگراس پر قصر کرنا ضروری تھا توقصر پڑھی جائے اور اگر پوری پڑھنا فرض تھی توادا کرتے وقت پوری پڑھی جائے ۔ سوال: میں نے ایک حدیث میں پڑھا تھا کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ کسی صحابی کی تیمارداری کے لئے اس کے گھر تشریف لے گئے تودیکھا کہ وہ تکیے پرسجدہ کررہے تھے آپ نے تکیہ دورپھینک دیا فرمایا: ’’سجدہ زمین پر کرنا چاہیے‘‘ اس حدیث کی روشنی میں