کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 116
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد گرامی ہے:’’ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال میں سے پہلے نماز کاحساب ہوگا ۔‘‘ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۸۶۶] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے بھی پیروکار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ان میں سے ایک بھی بے نماز نہیں ہے بلکہ آدمی اورشرک کے درمیان نماز ہی رکاوٹ کا باعث ہے۔ ایسے حالات میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک متبع سنت،داڑھی کااحترام کرنے والا نمازی انسان ضرورجنت میں داخل ہوگا۔ باذن اﷲ، اس کے بغیر جنت کا حصول اﷲ کی مرضی پرموقوف ہے ۔ [واﷲ اعلم] سوال: نماز فجر کے لئے امام تشہد میں بیٹھا ہے۔ باہر سے آنے والے نمازی کے لئے کیاحکم ہے وہ تشہد میں بیٹھ جائے یا فجر کی سنت ادا کرے یاسلام پھیرنے کاانتظار کرے تا کہ پہلے سنتیں ادا کرکے فرض نمازپڑھے ،نیز مؤذن صبح کی اذان میں ’’الصلوٰۃ خیرمن النوم‘‘ کہنابھو ل گیا ہے ،اب کیااذان دوبارہ کہناہوگی یایہی کافی ہے؟ بعض لوگوں کاموقف ہے کہ پہلے دی گئی اذان غلط ہے، اس لئے دوبارہ کہی جائے۔ جواب: امام اس لئے بنایا جاتاہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، اس لئے بہتر ہے کہ باہر سے آنے والانمازی امام کے ساتھ تشہد میں شامل ہوجائے کیونکہ جو حصہ جماعت کااسے ملاہے اس کاثواب بھی ضرور ملے گا،حدیث میں بھی اس طرح کااشارہ ملتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ نے لوگوں کے دوڑنے کی آواز سنی ،جب آپ نماز سے فارغ ہوئے توآپ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ بتایا گیا کہ نماز میں شمولیت کی جلدی تھی، اس لئے ایسا کیا گیا ہے اس پر آپ نے فرمایا: ’’آیندہ ایسامت کرنا،نمازکے لئے سکون اوراطمینان سے آنا چاہیے، جوامام کے ساتھ نماز کاحصہ مل جا ئے اسے پڑھ لواور جورہ جائے اسے مکمل کرلو۔‘‘ [صحیح بخاری ،الاذان : ۶۳۵] اس حدیث کاتقاضا یہ ہے کہ اگرامام تشہد میں بھی بیٹھا ہے توبھی باہر سے آنے والا نمازی جماعت میں شامل ہوجائے اوریہ کسی صور ت جائز نہیں ہے کہ وہ جماعت کے ہوتے ہوئے سنتیں پڑھناشروع کردے ۔کیونکہ اس کی حدیث میں ممانعت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب نماز کھڑی ہوجائے توفرض نماز کے علاوہ دوسری نماز نہیں ہوتی ہے ۔‘‘ [مسند امام احمد، ص:۴۵۵ج ۲] ایک روایت میں ہے کہ جس نماز کی اقامت کہی گئی ہے اس کے علاوہ دوسری نماز نہیں ہوتی۔ [مسند احمد، ص:۴۵۲ج ۲] اس لئے دوران جماعت سنت ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے، مؤذن اگرصبح کی اذان میں ’’ الصلٰوۃ خیرمن النوم ‘‘ کہنابھول گیا ہے توبھول چوک کواﷲ تعالیٰ نے معاف کردیا ہے ،اذان مکمل ہے اسے دوبارہ کہنے کی ضرور ت نہیں ہے کیونکہ اذان کامطلب لوگوں کونمازکے وقت کی اطلاع دینا ہے ، وہ اس طرح اذان کہنے سے پوراہوچکا ہے اگرچہ بھول کر ’’الصلٰوۃ خیرمن النوم ‘‘ نہیں کہا گیا بہرحال اذان صحیح ہے دوبارہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ [واﷲ علم] سوال: اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ نماز کھڑی ہونے کے بعد آدمی نماز میں شامل ہوتا ہے وہ پہلے ہاتھ اٹھاکر سینہ پر باندھتا ہے پھرامام کے ساتھ رکوع یاسجدہ میں شامل ہوتاہے کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟ جواب: امام کے ساتھ شمولیت کے لئے ایسا کرناصحیح نہیں ہے کیونکہ نماز میں شمولیت کے لئے اﷲ اکبر کہہ کر ہاتھ اٹھانے