کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 114
چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ ’’فسبح اسم ربک العظیم‘‘ نازل ہوئی تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم اسے رکوع میں پڑھا کرو۔‘‘ اورجب آیت کریمہ ’’سبح اسم ربک الاعلی‘‘ نازل ہوئی توآپ نے فرمایا: ’’اسے اپنے سجدہ میں پڑھاکرو۔‘‘ [ابن ماجہ: ۸۸۷] ان تسبیحات کوکم ازکم تین مرتبہ بحالت سجدہ پڑھناچاہیے، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوبحالت سجدہ تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی‘‘ پڑھتے سنا ہے۔ [ابن ماجہ، اقامۃ الصلوٰۃ: ۸۸۸] ترمذی کی روایت میں صراحت ہے کہ ان تسبیحات کوکم ازکم تین مرتبہ پڑھنے سے سجدہ پورا ہوجاتاہے ،چنانچہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم سے کوئی سجدہ کرے اوردوران سجدہ تین مرتبہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی ‘‘ کہے تو اس کاسجدہ مکمل ہوجاتا ہے یہ تعدادکم ازکم ہے۔‘‘ [ترمذی ،الصلوٰۃ : ۲۶۱] اس حدیث کاواضح مطلب ہے کہ اگرسجدہ میں کم ازکم تین تسبیحات نہ کہی جائیں تووہ سجدہ مکمل نہیں ہے اور جس رکعت کاسجدہ نامکمل ہو اسے دوبارہ پڑھناہوگا اگردانستہ تسبیحات نہیں پڑھی ہیں تو اس کی سرے سے نماز ہی باطل ہے ،اگرغفلت یابے خیالی میں یہ تسبیحات رہ جائیں توحدیث کے مطابق یہ سجدہ نامکمل ہے اور اس کی تلافی اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ اس رکعت کودوبارہ پڑھ لیاجائے ۔شریعت اسلامیہ میں سجدہ صرف اوپر نیچے ہونے کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کی اصل روح یہ ہے کہ اپنی کامل عاجزی اور بے کسی کا اظہار پھراﷲ تعالیٰ کی قدرت اورشان رفیع کااعتراف کیاجائے ۔اس لئے جس سجدہ میں یہ روح کارفرمانہیں ہے اسے لغوی طورپر توسجدہ کہا جاسکتا ہے لیکن شرعی اعتبار سے اسے سجدہ قرار دینامحل نظر ہے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: کیا بریلوی اوردیوبندی امام کی اقتدا میں نماز اد اکی جاسکتی ہے؟ جبکہ یہ حضرات تقلید کی بندشوں میں جکڑے ہوئے ہیں اوربریلوی حضرات تواﷲتعالیٰ کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں ،کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں؟ جواب: واضح رہے کہ بریلوی اوردیوبندی جیسی نسبتیں دیوبنداور بریلی کے مدارس کی وجہ سے ہیں امامت کاتعلق عقائد صحیحہ اوراعمال صالحہ سے ہے، چونکہ اما م کی حیثیت ایک نمایندہ کی ہوتی ہے اس لئے دینی اعتبار سے ا سے دوسرے لوگوں سے بہتر ہوناچاہیے اورمستقل امام کی حیثیت سے کسی ایسے شخص کاانتخاب کرناچاہیے جواچھے عقائد ونظریات اور بہترین اعمال وکردار کا حامل ہو ۔اس بات کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’امامت کے لئے اپنے سے بہتر انسان کا انتخاب کروکیونکہ یہ حضرات ہمارے اوراﷲ کے درمیان نمائندہ ہوتے ہیں۔‘‘ [دارقطنی، ص:۸۸ج ۲] یہ حدیث سند کے اعتبار سے اگرچہ ضعیف ہے، تاہم استشہادکے طورپراس قسم کی احادیث کوپیش کیا جاسکتا ہے ۔ہمارے نزدیک جوانسان تقلید شخصی کوشرعی حکم خیال کرتا ہے اوراپنے امام کی بات کوحرف آخرتسلیم کرتا ہے، اولیائے اﷲ کوحاجت روا اورمشکل کشا سمجھتا ہے، اہل قبور سے استمداد کا قائل اورفاعل ہے، نیز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوعالم الغیب اورحاضروناظر جانتا ہے، ایسے شخص کو مستقل طورپر اپناامام نہیں بناناچاہیے اورنہ ہی ایسے شخص کے پیچھے مستقل طورپر اختیاری حالات میں نماز ادا کرناچاہیے ،البتہ کبھی کبھار کسی مصلحت وضرورت کے پیش نظر ایسے امام کی اقتدا میں نماز ادا کرناپڑے تونماز ادا ہوجائے گی ۔جیسا کہ اہل بدعت کے