کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 112
نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کودوران نماز سلام کہا توآپ نے فراغت کے بعد اس کاجواب دیا اور اس کے ساتھ ساتھ وضاحت بھی کردی۔ [ابوداؤد،الصلوٰۃ:۹۴۲] دوران نما زاپنے ہاتھ کے اشارہ سے بھی جواب دیا جاسکتا ہے لیکن زبان سے کچھ نہیں کہناچاہیے ۔چنانچہ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد قبا تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے نماز پڑھی تووہاں مقیم انصاری حضرات دوران نماز آپ کوسلام کرنے لگے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تھے، اس لیے میں نے ان سے دریافت کیاکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کاجواب کیسے دیتے تھے انہوں نے کہا آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے ۔ [ابن ماجہ، اقامۃ الصلوٰۃ:۱۰۱۷] حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے بھی یہی سوال کیا تھا توانہوں نے بھی وہی جواب دیا جوحضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے دیاتھا۔ [جامع ترمذی ،الصلوٰۃ :۳۶۸] جبکہ ابوداؤد میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ پھیلا کروضاحت فرمائی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم دوران نماز اس طرح جواب دیتے تھے۔ [ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۹۲۷] دراصل شریعت بعض اوقات کسی انسان کی حسن نیت کے پیش نظر اس کے کسی عمل کو صرف جواز کی حد تک نہ کہ افضل ہونے کی حیثیت سے گوار اکرلیتی ہے۔ اس لئے ایسے اعمال کو مسنون ہونے کادرجہ نہیں دیاجاسکتا ،جیسا کہ ایک آدمی نے دوران جماعت رکوع سے اٹھ کربآواز بلند ’’کلمات تحمید ‘‘ادا کئے تھے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اخلاص کے پیش نظر اس کی تحسین فرمائی لیکن خود اس پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی دوسروں کویہ عمل بجالانے کی تلقین فرمائی ،دوران جماعت سلام کہنا بھی اسی قبیل سے ہے ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کم ازکم تین مرتبہ دوران نماز شامل ہوئے ہیں ،لیکن آپ کانمازیوں کوسلام کہناکسی روایت سے ثابت نہیں ہے، اگریہ افضل عمل ہوتا تو آپ اسے ضرور بجالاتے ،اسی طرح اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے جوا ز کی حد تک برقرار رکھا ہے ۔پھر آپ کے جواب دینے کی جوصورتیں ہیں ان سے بھی اس کاافضل ہوناثابت نہیں بلکہ صرف جواز ثابت ہوتا ہے ۔ [واﷲ اعلم ] سوال: اذان تہجد کے متعلق وضاحت فرمائیں کہ اس کی کیا حیثیت ہے ،حضرت بلال رضی اللہ عنہ جواذان دیتے تھے اس پر اعتراض ہے کہ وہ صرف رمضان کے ساتھ خاص ہے کیا اذان ِ تہجدساراسال بھی دی جاسکتی ہے؟ جواب: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صرف فجر کی ایک اذان ہوتی تھی،جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ نے جب اذان کے متعلق خواب میں دیکھا تورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوپانچوں وقت اذان دینے کیلئے تعینات فرمایا کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ خوش الحان اوربلند آواز تھے۔ اس وقت فجر کی اذان بھی ایک ہوتی تھی۔ [مسند امام احمدص:۴۳ج ۴] حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ صبح کی اذان وقت سے پہلے کہہ دی تھی تواس کے متعلق باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو نیند آنے کی وجہ سے بروقت اذان نہیں دی جاسکی۔ [ابوداؤد ،الصلوۃ:۵۳۲] ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوپابند کیاتھا کہ فجر واضح ہونے سے پہلے صبح کی اذان نہ کہی