کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 111
[ریاض الصالحین، حدیث نمبر: ۷۹۷] لیکن مذکورہ راوی صحیح مسلم کے راویوں میں سے نہیں ہے کہ اس روایت کومسلم کی شرط پرصحیح قرار دیا جائے، ان شرائط کی بنا پر یہ روایت ہمارے نزدیک ضعیف ہے، اس لئے قابل حجت نہیں ہے، اگرچہ اسبال ازارسخت ممنوع فعل ہے، اس فعل کے ارتکاب پروہ شخص اخروی سزاکاحق دار ہوگا اگرصحیح بھی تسلیم کرلیاجائے ،توبھی اسبال ازارکونواقض وضو میں شمار کرنامحل نظر ہے ،کیونکہ کسی محدث نے اس حدیث سے اس قسم کا مسئلہ مستنبط نہیں کیا ۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ وضو کرنے کے متعلق غالباً اس لئے کہا کہ بلاشبہ وضو کرنے سے گناہ اور اسباب گناہ، مثلاً: غصہ وغیرہ ختم ہوجاتے ہیں لیکن اسبال ازارنے وضو کی اس فضیلت کوغیر مؤثر کر دیا تھا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دوبارہ وضو کی تلقین کرکے اس کوتاہی کی طرف متوجہ کرناچاہتے تھے جس نے اسے وضو کی اس فضیلت سے محروم کردیا تھا ۔ [واﷲ اعلم بالصواب] سوال: کیا دوران جماعت نمازیوں کو سلام کہناضروری ہے جبکہ ایسا کرنے سے خشوع بھی متاثر ہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں کچھ ساتھی جب جماعت کھڑی ہوتی ہے تو بآواز بلند سلام کہتے ہیں کچھ نمازی کہتے ہیں کہ جماعت کھڑی ہوتوسلام نہیں کہنااورنہ ہی اس کاجواب دیناچاہیے ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔ جواب: دوران نماز انسان کوایسا کا م نہیں کرناچاہیے جونماز کا حصہ نہیں ہے اورنہ ہی باہر سے آنے والے کوکوئی ایسا کام کرنے کی اجازت ہے جس سے نماز ی حضرات کاخشوع متاثر ہو ،لیکن بعض کام ایسے ہیں جونماز کاحصہ نہ ہونے کے باوجود بھی دوران نماز کئے جاسکتے ہیں کیونکہ شریعت نے ان کی اجازت دی ہے، اس طرح کچھ کام ایسے ہیں کہ باہر سے آنے والاانہیں سرانجام دے سکتا ہے، اگرچہ اس سے کسی حدتک نمازی کاخشوع متاثر ہوتا ہے ۔ان میں سلام کاکہنا اوراس کامخصوص انداز سے جواب دینا بھی ہے واضح رہے کہ نماز سے متعلقہ احکام کی تکمیل کئی ایک مراحل میں ہوتی ہے ۔چنانچہ پہلے دوران نماز باہر سے آنے والوں کوسلام کہنے اورنمازیوں کواس کاجواب دینے کی اجازت تھی ،لیکن بعد میں اس اجازت کوختم کردیا گیا، چنانچہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ رہے ہوتے توہم آپ کو سلام کہتے اور آپ اس کا دوران نماز جواب بھی دیتے تھے لیکن حبشہ کے فرمانرواحضرت نجاشی کے پاس سے واپس مدینہ آئے تومیں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوحسب معمول دوران نماز سلام کہا لیکن آپ نے اس کاجواب نہ دیا میرے دل میں اس سے متعلق طرح طرح کے خیالات آنے لگے ۔جب آپ نے سلام پھیراتومیں نے اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا ۔آپ نے فرمایا: ’’نماز میں مصروفیت ہوتی ہے ۔‘‘ [صحیح مسلم ،المساجد :۱۲۰۱] ایک روایت میں ہے کہ جب میں نے آپ کوسلام کہا توآپ نے میری طرف اشارہ فرمایا۔ [صحیح مسلم: ۱۲۰۵] ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دوران نماز سلام کہا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرناضروری نہیں ہے کہ اگر نہ کہا جائے توکسی فرض کاتارک قرار پائے، اس لئے باہر سے آنے والے کو چاہیے کہ اگروہ سلام کہنا چاہتا ہے توبآواز بلند سلام ’’پھینکنے‘‘ کی بجائے نہایت شائشتگی اور آہستگی سے سلام کہے۔نماز میں مصروف انسان کے لئے اس کا جواب کہنادوطرح سے جائز ہے ۔ 1۔ نماز سے فراغت کے بعد زبان سے اس کا جواب دے دے، جیسا کہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں