کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 110
آپ نے جواب دیا کہ ایسا امت کی سہولت کے پیش نظر کیا گیا تاکہ یہ امت کسی تنگی اورمشقت میں مبتلا نہ ہو۔ مسند امام احمد، ص:۲۲۳،ج ۵] تاہم دو نمازوں کوجمع کرناسخت ضرورت، مثلاً: بارش اورشدیدآندھی وغیرہ ہوتو ایسا کیا جاسکتا ہے۔ ہماے ہاں عام طور پر کاروباری حضرات کا معمول ہے کہ وہ سستی یاکاروباری مصروفیات کی وجہ سے دونمازیں جمع کرلیتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے بلکہ بعض اوقات روایات کے مطابق ایسا کرناسخت گناہ ہے۔ناگزیر حالات کے علاوہ ہرنماز کواس کے وقت پر ہی اد ا کرنا ضروری ہے۔ جب سفر کے علاوہ کسی سخت مجبوری کی بنا پر دونمازوں کواکٹھا کرکے ادا کیا جائے تو پہلی نماز کی سنتیں وغیرہ اد انہیں کی جاتیں کیونکہ اس سے جمع کامقصد فوت ہوجاتا ہے اس کے علاوہ دوسری جماعت کے لئے صرف اقامت ہی کافی ہے اذان دینے کی ضرورت نہیں۔ صحیح مسلم ،الحج :۱۲۱۸] واضح رہے کہ اگربارش کی وجہ سے دونمازوں کواکٹھاپڑھا جائے تومسجد میں دوسری نماز کے لئے اذان دی جائے اگربارش جاری ہو تو ’’اَلاَ صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ‘‘ کے الفاظ کہے جائیں اورمسجد میں رہائش رکھنے والے باقاعدہ جماعت کااہتمام کریں اور اگربارش رک گئی ہوتومعمول کے مطابق اذان کہی جائے تاکہ جوحضرات بارش کی وجہ سے پہلی نماز میں حاضر نہیں ہوسکے تھے وہ دوسری نماز باجماعت مسجد میں ادا کریں۔ [واﷲاعلم] سوال: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کونماز پڑھتے دیکھا جس کا کپڑا ٹخنوں سے نیچے تھا توآپ نے اسے نماز اوروضو دوبارہ کرنے کے متعلق حکم دیا(ابو داؤد) اس حدیث کی صحت کیسی ہے؟ جواب: حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کوبایں حالت نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کی چادر ٹخنوں سے نیچے تھی، آپ نے فرمایا کہ ’’جااوروضو کر۔‘‘ چنانچہ وہ گیا اوروضو کرکے چلاآیا۔ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ نے اسے وضو کرنے کاحکم کیوں دیا؟ آپ نے فرمایا کہ ’’وہ اپنی چادرٹخنوں سے نیچے کرکے نماز پڑھ رہاتھا اوراﷲ تعالیٰ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں کرتا ہے جس کاکپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو۔‘‘ [ابوداؤد ،صلوٰۃ ،۶۳۸،اللباس :۴۰۸۶،مسند امام احمد، ص:۷۹،ج۵] علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کی سندکوضعیف قرار دیا ہے۔ [ضعیف ابودائود، ص:۵۹، حدیث نمبر:۱۲۴] اوراس کے ضعف کی وجہ بایں الفاظ بیان کی ہے،کہ اس میں ابوجعفر الانصاری المدنی المؤذن راوی مجہول ہے۔ محدث ابن قطان نے اس کی صراحت کی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے ’’لین الحدیث‘‘ میں لکھا ہے۔ (تقریب) کچھ علما نے وہم کی بنا پر اس کی سند کوصحیح قرار دیا ہے۔ [تعلیق مشکوٰۃ المصابیح :۷۲۱] امام منذری رحمہ اللہ اور علامہ ترکمانی رحمہ اللہ نے بھی اس راوی کو مجہول قرار دیا ہے۔ [مختصر سنن ابی دائود،ص:۳۲۴، ج۱] اگرچہ امام ترمذی نے اس سے مروی ایک حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ [الدعوات:۳۴۴۸] لیکن اسے بیان کرنے والا صرف ایک راوی یحییٰ بن ابی کثیر ہے محدثین کے بیان کردہ اصول کے مطابق ایسا راوی مجہول ہوتا ہے جس سے بیان کرنے والا صرف ایک راوی ہو۔امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم رحمہ اللہ کی شرط پراس روایت کوصحیح قرار دیا ہے۔