کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 104
لیتیں سجدہ سے فراغت کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں پھیلا دیتیں۔ اس واقعہ میں لحاف سے نکل کرباہرجانے کی صورت میں ہے۔ اس روایت پرامام بخاری رحمہ اللہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیاہے ’’عورت کوسترہ بناکرنوافل پڑھنا‘‘ اسے بھی متعدد مقامات پرذکر کیاہے۔ (۵۱۳،۵۱۹،۱۲۰۹) بہرحال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کامعمول تھا کہ گھر ،مسجد ،آبادی، صحرا، منیٰ، عرفات، بیت اﷲ، الغرض جہاں بھی نماز پڑھتے سترہ کااہتمام کرتے۔ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس پرعمل پیرا تھے۔ اس لئے یہ نمازی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود سترہ کااہتمام کرے، اہل مسجد کی ذمہ داری نہیں کہ وہ متعدد ’’سترات‘‘ کامسجد میں بندوبست کرکے رکھیں۔ اس قسم کی سہولیات فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ مؤمن کی شان یہ ہے کہ جب بھی کوئی معاملہ صحیح احادیث سے ثابت ہو جائے اس پر عمل پیرا ہونے کی فکر کرے نہ کہ اسے نظر انداز کرنے کے لئے موہوم خدشات یاپائے چوبین کاسہارا لے۔ [واﷲاعلم بالصواب] سوال: تشہد میں انگشت شہاد ت کوحرکت دینا چاہیے یا نہیں؟ اگر دینا چاہیے توکب اورکیسے ہو؟اس مسئلہ کے متعلق تفصیل سے روشنی ڈالیں۔ جواب: دوران نما ز تشہد کی حالت میں انگشت شہادت کوحرکت دینا نہ صرف رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے بلکہ تمام انبیا علیہم السلام کا طریقہ مبارکہ ہے چنانچہ امام حمیدی رحمہ اللہ نے ایک آدمی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے شام کے کسی گرجا میں انبیا علیہم السلام کے مجسموں کودیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اوراپنی انگشت شہاد ت کواٹھائے ہوئے تھے۔ [مسندحمیدی، ص: ۱۸۳، حدیث نمبر ۲۴۸] رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اس سنت کوزندہ رکھا بلکہ اگرکسی سے اس سلسلہ میں کوتاہی ہوجاتی تویہ حضرات اس کا مؤاخذہ کرتے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، ص:۳۶۸،ج ۲] لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں اس سنت کوباہمی اختلاف کی نذر کردیا گیا۔ اس اختلاف کی بدترین صورت یہ ہے کہ اس سنت کوصحت نماز کے منافی قرار دیا گیا، چنانچہ خلا صہ کیدانی احناف کے ہاں ایک معروف کتاب ہے جس کے متعلق سرورق پرلکھا ہے: اگرطریق صلوٰۃ کہہ وانی اگرنخوانی خلاصہ کیدانی اگر تونے خلاصہ کیدانی نہ پڑھا تونماز کے طریقہ کے متعلق تجھے کچھ پتہ نہیں ہوگا ۔اس کتاب کاپانچواں باب ’’محرمات‘‘ کے متعلق ہے ۔اس میں ان چیزوں کی نشاند ہی کی گئی ہے ۔جن کا ارتکاب دوران نما ز حرام اورناجائز ہے بلکہ ان کے عمل میں لانے سے نماز باطل قرار پاتی ہے۔ ان میں سرفہرست بآواز بلند آمین اوررفع الیدین کوبیان کیا گیا ہے اس کی مزید وضاحت بایں الفاظ کی ہے: ’’اَلْأَشَارَۃُ بِالسَّبَّابَۃِ کَأَہْلِ حَدِیْثٍ‘‘ (خلاصہ کیدانی، ص ۱۱)’’بار بار انگلی کے ساتھ اشارہ کرناجیسا کہ اہل حدیث کرتے ہیں‘‘ یعنی یہ عمل ان کے ہاں نماز کو باطل کردیتا ہے ،ستم بالائے ستم یہ ہے کہ مذکورہ بالاعربی عبارت کافارسی زبان میں بایں الفاظ ترجمہ کیا ہے ’’اشارہ کردن بانگشت شہاد ت مانندقصہ خواناں‘‘ اس عبارت میں اہل حدیث کاترجمہ ’’قصہ خواناں ‘‘کیا گیا ہے گویا اہل حدیث محض داستان گواورقصہ خوان ہیں، مصنف خلاصہ کی اس نار واجسارت کے پیش نظر احناف کے معروف فقیہ اورعالم دین ملا علی قاری نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ لکھتے ہیں کہ مصنف نے بہت بڑی غلطی کاارتکاب کیاہے ،جس کی وجہ قواعد اصول اورمراتب