کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث - صفحہ 101
ہمارے نزدیک اس حدیث کی صحت مسلم نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں عبدالکریم بن ابی المخارق راوی ہے جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [تہذیب التہذیب :۶/۳۷۶] جن حضرات نے اسے صحیح کہاہے انہوں نے اسے عبدالکریم الجزری خیال کیا ہے علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے اس کی صحت کوتسلیم کرتے ہوئے یہ جواب دیا ہے کہ اس سے مطلق سترے کی نفی نہیں ہوتی ۔بلکہ ایسے سترہ کی نفی کرتی ہے جولوگوں اورآپ کے درمیان حائل ہو۔جیسے بلند دیوار وغیرہ،جودونوں کے درمیان ایک دوسرے کو دیکھنے سے مانع ہو ۔محدث عراقی رحمہ اللہ نے بھی یہی مؤقف اختیار کیاہے ۔ [مرعاۃالمفاتیح :۳/۴۹۹] لہٰذا ایسی محتمل روایت صحیح اورصریح احادیث کے خلاف دلیل نہیں بن سکتی ۔واضح رہے کہ اس حدیث کے بنیادی الفاظ جو امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کیے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں: ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک گدھی پرسوار ہوکرآیا اور میں اس وقت قریب البلوغ تھا ،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت دیوار کے سواکسی اورچیز کاسترہ کرکے لوگوں کونماز پڑھارہے تھے ،صف کے کچھ حصے سے گزرکرمیں اپنی سواری سے اترا اورگدھی کوچرنے کے لئے چھوڑدیااورخود صف میں شامل ہوکر شریک نماز ہوگیا ۔کسی نے اس وجہ سے مجھ پراعتراض نہیں کیا۔‘‘ [صحیح بخاری :۴۳۹] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے سترہ کوثابت کیاہے ،جبکہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس سے سترہ کی نفی کوثابت کیاہے اوراس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے ’’سترہ کے بغیرنماز پڑھنا ‘ ‘لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کامعاملہ انتہائی تعجب خیز ہے کہ وہ امام بخاری رحمہ اللہ کے قائم کردہ عنوانات سے احادیث کی مطابقت اورصحت استدلال کے لئے بڑی کوشش وکاوش کرتے ہیں ۔لیکن اس مقام پروہ امام بیہقی رحمہ اللہ سے متاثر نظرآتے ہیں اورفرماتے ہیں کہ اس حدیث سے سترے کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ کااستدلال محل نظرہے ۔[فتح الباری: ۱/۷۳۹] اگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اورامام بیہقی رحمہ اللہ دقت نظر سے کام لیتے تومعاملہ اس کے برعکس ہوتا ،امام بخاری رحمہ اللہ کے پیش نظریہ نکتہ تھا کہ حدیث میں ’’غیر جدار ‘‘ کے الفاظ ہیں اورغیرلفظ ہمیشہ کسی سابق کی صفت ہواکرتا ہے ۔اس لئے حدیث کامعنی یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے علاوہ کسی دوسری چیز کوسترہ بناکرنماز پڑھ رہے تھے۔ نفی جدار کافائدہ بھی اس وقت ہوگا کہ وہاں کسی دوسری چیز کا سترہ ہو بصورت دیگر یہ نفی لغو ہو گی۔ نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دوران جماعت میرے صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرنے کے باوجود مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سترہ موجود تھا وہاں سترہ مقتدی حضرات کے لئے کافی تھا، اس لئے اعتراض کی گنجائش ہی نہیں تھی ۔اس حدیث پر ہم نے اپنی زیر ترتیب شرح بخاری میں سیر حاصل بحث کی ہے ۔قارئین سے استدعا ہے کہ وہ اس کی تکمیل کے لئے دعا کرتے رہیں ۔ ٭ امام مالک رحمہ اللہ اس سلسلہ میں ایک صحابی کاعمل نقل کرتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے صحر ا میں ستر ہ کے بغیر نماز پڑھی۔ [مؤطا امام مالک، باب سترۃ المصلی فی السفر]