کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 99
ان باغات میں پیدا ہونے والے نقصان دہ پودے اور پتھر ہوتے ہیں جنھیں اس باغ سے ہٹانا اور دور کرنا ضروری ہے اور چیز قولاً و فعلاً محرمات سے بچنے کے مترادف ہے۔ تو جب یہ امور مکمل ہو جائیں گے تو یہ باغ زندہ اور ہرا بھرا ہو جاتا ہے اور طرح طرح کے پھل دیتا ہے۔[1] اس بیان سے اعمال صالحہ سے ایمان میں اضافے کی بہت زیادہ تائید ظاہر ہوتی ہے اور ان اعمال کی ادائیگی اور کثرت ایمان کی زیادتی کا بہت بڑا سبب ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’کمالِ ایمان یہ ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق چلے اور جس چیز سے انھوں نے منع کیا ہے اس سے باز آ جائے، تو اگر وہ کچھ کام حکم کے مطابق کرے مگر بعض ممنوعات کا ارتکاب بھی کرے تو ایسا شخص اپنے ایمان میں اتنی ہی کمزوری رکھتا ہے جتنی وہ کوتاہی کر رہا ہے۔‘‘[2] پس نماز بھی ایمان ہے، حج بھی ایمان ہے، صدقہ، جہاد اور تمام اللہ تعالیٰ کا حکم دی ہوئی طاعات بھی ایمان ہیں، تو جب آدمی ان چیزوں کو ادا کرے تو اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور اس کا یہ عمل بھی ایمان کی زیادتی کا ایک سبب ہو گا، مگر اس کی دو شرائط ہیں : (۱) اخلاص (۲) اتباع شیخ محمد صالح بن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’ایمان کی زیادتی کے کچھ اسباب ہیں، ان میں سے اطاعت کرنا بھی ہے۔ تو ایمان حسن عمل، اس کی جنس اور اس کی کثرت کے مطابق بڑھتا ہے۔ جب عمل اچھا ہو تو اس کے ساتھ ایمان کی زیادتی بھی اچھی ہوتی ہے اور اچھا عمل اخلاص اور اتباع کے مطابق بڑھتا ہے۔ جنس عمل کے متعلق معاملہ یہ ہے کہ واجب مسنون سے افضل ہے اور بعض [1] التوضیح والبیان لابن سعدی ، ص:۳۴۔ ۳۶۔ [2] مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: ۲۷؍ ۱۷۲۔