کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 98
چاہیے اور کوئی شک نہیں یہ صفت ایمان کو بہت بڑی طاقت دیتی ہے۔ تو مومن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے، اور فرمایا: ﴿ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى﴾ (النازعات: ۴۰) ’’وہ خواہش سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔‘‘ کیونکہ وہ ایمان کے داعی کی بات قبول کرتا ہے، اس لیے کہ جو اس کے پاس ایمان ہے اسے غذا ملے۔ امانتوں کی حفاظت اور وعدوں کی رعایت کرنا بھی ایمان کی علامات میں سے ہے۔ حدیث میں ہے: (( لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَّا اَمَانَۃَ لَہُ)) [1] ’’اس کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں۔‘‘ تم کسی کا دین اور ایمان جاننا چاہو تو اس کی حالت دیکھو کیا وہ تمام امانتوں کا خیال رکھتا ہے اور حقوق کی امانت کا خیال رکھتا ہے یا نہیں، یہ بھی دیکھو کہ کیا یہ حقوق، مواعید جو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان ہیں کیا وہ ان کا خیال رکھتا ہے یا نہیں۔اگر خیال رکھتا ہے تو وہ دین و ایمان والا ہے، اگر ایسے نہیں ہے تو اس کا دین ایمان اتنا ہی کم ہو گا جتنی امانات کی رعایت کم ہو گی۔ ان آیات کو اللہ تعالیٰ نے نماز پر حفاظت کے حکم پر ختم کیا کہ اس کی حدود و حقوق اور اوقات کی حفاظت کی جائے، کیونکہ ان باتوں کی حفاظت اسی طرح ہے جس طرح ایمان کے باغ پر پانی چلے اور اسے سیراب کرے اور اس کی نشوونما کرے اور وہ باغ اپنا پھل ہر وقت دیتا رہے۔ ایمان کا درخت ہر وقت سیرابی کے خیال رکھنے کا محتاج ہوتا ہے اور یہ حفاظت رات دن کے اعمال میں طاعات و عبادات کی ادائیگی سے ہوتی ہے۔ [1] مسند احمد، ح: ۲۳۸۳، ط: مؤسسۃ الرسالۃ۔ مصنف ابن ابي شیبۃ ،ح: ۳۰۳۲۰، ط: مکتبہ الرشد ۔ صحیح ابن حبان، ح: ۱۹۴۔ شرح السنۃ،ح:۳۸۔ امام بغوی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ’’حسن ‘‘کہا ہے۔