کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 97
أَكْبَرُ ﴾ (العنکبوت: ۴۵) ’’نماز قائم کرو بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔‘‘ تو یہ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اور یہ اللہ کے ذکر کو شامل جو ایمان کی غذا اور نمو کا کام کرتا ہے۔ آگے فرمایا: ﴿ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ ﴾ اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔ زکوٰۃ بھی اسی طرح ایمان میں نشوونما اور اضافے کا کام کرتی ہے اور یہ فرض بھی ہے اور نفل بھی۔ دونوں ایمان میں اضافے کا باعث ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَالصَّدَقَۃُ بُرْہَانٌ)) [1] ’’اور صدقہ دلیل ہے۔‘‘ یعنی ایمان کی دلیل ہے، اسے غذا بھی دیتی ہے اور اس میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ لغو سے اعراض کرنا یہ ہے کہ ہر وہ کلام جس میں خیر نہ ہو اور ہر وہ فعل جس میں خیر نہ ہو بلکہ یہ لوگ خیر کا کام کرتے ہیں اور خیر کی بات بھی کرتے ہیں اور شر کے ہر قول و فعل کو چھوڑ دیتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام یعنی لغو سے اعراض کرنا بھی ایمان ہے اور اس سے ایمان بڑھتا اور ثمر آور ہوتا ہے۔ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد والے لوگ جب اپنے اندر کوئی غفلت یا ایمان کی کمی دیکھتے تو ایک دوسرے سے کہتے آؤ ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ہم ایمان دار ہو جائیں۔ پھر اللہ کو یاد کرتے اور اس کی دینی اور دنیوی نعمتیں یاد کرتے، تو اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرف گناہوں اور فواحش سے عفت و عصمت خصوصاً زنا کی بے حیائی سے بچنا [1] صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، ح: ۲۲۳ جزء الحدیث۔