کتاب: ایمان میں زیادتی اور کمی کے اسباب - صفحہ 95
اگر کوئی آدمی ان تمام باتوں سے اعراض کرے اور اپنی زبان کو اللہ کی یاد میں مصروف نہ رکھے تو اس کی زبان اس کے علاوہ غیبت، چغلی، ٹھٹھا، مذاق، جھوٹ اور بے ہودہ باتوں میں مشغول ہو جائے گی۔ کیونکہ بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کلام کرتا ہے تو اگر وہ اللہ کے ذکر کے ساتھ نہ بولے گا تو اس کے علاوہ دوسری رذیل باتوں سے کلام کرے گا۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’زبان بالکل خاموش نہیں رہتی۔ پھر یا تو لسان ’’ذاکر‘‘ ہو گی یا لسان ’’لاغی‘‘ ان میں ایک قسم کی زبان ضرور ہو گی۔ یہ انسان کا نفس ہے،یہ اگر تجھے حق کے ساتھ مشغول نہ کرے گا تو تجھے باطل کے ساتھ لگا دے گا، نیز یہ انسان کا دل ہے جب تم اسے اللہ کی محبت کے ساتھ تسکین نہ دو گے تو مخلوق کی محبت اسے تسکین دے گی اور یہ بات ضروری ہے۔ یہ انسان کی زبان ہے اگر تم اسے اللہ کی یاد میں مشغول نہ رکھو گے تو یہ تمھیں لغو کاموں میں مشغول کر دے گی اور یہ چیز بھی تم پر لازم ہے۔ اس لیے تم اپنے نفس کے لیے دونوں باتوں میں سے ایک کو پسند کر لو اور اسے دو مرتبوں میں سے ایک میں رکھو۔‘‘[1] اعمالِ جوارح: اعضاء کے ساتھ انجام پانے والے اعمال مثلاً نماز، روزہ، حج، صدقہ اور جہاد وغیرہ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کے امور ہیں اور یہ ایمان کی زیادتی کے اسباب میں سے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کے وہ فرائض جو اس نے اپنے بندوں پر لازم کیے ہیں اور وہ اللہ کے قرب کے اعمال ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے اور ان کو کامل اور اچھے طریقے سے ادائیگی کا حکم دیا اور یہ ایمان کی زیادتی اور قربت کے اسباب میں سے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (1) الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (2) وَالَّذِينَ هُمْ [1] الوابل الصیب لابن القیم ، ص: ۱۶۶، ۱۶۷۔